
ویتنام میں صحت کے نظام کی بہتری: 2030 تک 200 نئے سیٹلائٹ اسپتال قائم کرنے کا منصوبہ
ہنوئی، یورپ ٹوڈے: ویتنام کے شعبۂ صحت نے اعلان کیا ہے کہ 2030 تک ملک بھر میں سیٹلائٹ اسپتالوں کے نیٹ ورک میں کم از کم 200 نئے طبی مراکز شامل کیے جائیں گے، تاکہ عوام کو ان کے رہائشی علاقوں کے قریب محفوظ، معیاری اور بروقت طبی سہولیات فراہم کی جا سکیں۔
یہ اقدام وزارتِ صحت کی جانب سے حال ہی میں منظور کیے گئے "سیٹلائٹ اسپتال ڈویلپمنٹ پروجیکٹ 2026-2030” کا اہم حصہ ہے۔
منصوبے کے تحت دور دراز، پسماندہ اور دشوار گزار علاقوں میں قائم طبی مراکز کو ترجیحی بنیادوں پر سیٹلائٹ اسپتالوں کے طور پر منتخب کیا جائے گا، جو عموماً مرکزی یا بڑے اسپتالوں سے کافی فاصلے پر واقع ہوتے ہیں۔ اس کا بنیادی مقصد دیہی آبادی کو معیاری طبی سہولیات تک بہتر رسائی فراہم کرنا ہے۔
منصوبے کے مطابق تمام مرکزی اور سیٹلائٹ اسپتالوں میں ریموٹ پروفیشنل سپورٹ سسٹمز کا نفاذ لازمی ہوگا، جن میں آن لائن تربیت، ٹیلی کنسلٹیشن، ماہرین کی مشاورت اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کے ذریعے تشخیص و علاج شامل ہیں۔
وزارتِ صحت کے مطابق پہلے ہی متعدد مرکزی اسپتال مقامی سطح پر سیٹلائٹ مراکز کو ریموٹ معاونت فراہم کر رہے ہیں، جس کے نتیجے میں تشخیص اور علاج کے فیصلے زیادہ تیزی اور درستگی کے ساتھ کیے جا رہے ہیں، جبکہ مریضوں کو بڑے اسپتالوں میں منتقل کرنے کے خطرات میں بھی کمی آئی ہے۔
گائیڈڈ ریورس ریفرلز کا نظام
منصوبے میں ایک اہم نیا پہلو "گائیڈڈ ریورس ریفرلز” متعارف کروانا ہے، جس کے تحت مرکزی اسپتالوں میں علاج مکمل کرنے والے مریضوں کو مکمل طبی ریکارڈ اور ہدایات کے ساتھ واپس سیٹلائٹ اسپتالوں میں منتقل کیا جائے گا۔ اس دوران مرکزی اسپتال ٹیکنالوجی کے ذریعے مسلسل رہنمائی فراہم کرتے رہیں گے۔
طبی عملے کی تربیت اور ذمہ داریاں
منصوبے کے تحت طبی عملے کو ہنگامی صورتحال، پیچیدہ بیماریوں اور حساس کیسز سے نمٹنے میں براہِ راست شامل ہونا ہوگا۔ ساتھ ہی انہیں مسلسل تربیت، پیشہ ورانہ ترقی اور نگرانی فراہم کی جائے گی تاکہ ان کی صلاحیتوں میں اضافہ ہو۔
ریفرلز میں 20 فیصد کمی کا ہدف
ان اقدامات کے ذریعے منصوبے کا ہدف ہے کہ ایسے کیسز میں، جن کا علاج سیٹلائٹ اسپتالوں میں ممکن ہے، بڑے اسپتالوں کو ریفر کیے جانے والے مریضوں کی تعداد میں کم از کم 20 فیصد کمی لائی جائے۔
نائب وزیرِ صحت تران وان تھوان کے مطابق اس منصوبے کا مقصد ملک بھر میں مرکزی اور سیٹلائٹ اسپتالوں کے نیٹ ورک کو مضبوط، مؤثر اور توسیع دینا ہے، تاکہ علاقائی ضروریات کے مطابق صحت کا نظام بہتر بنایا جا سکے۔
وزارت نے اہل نجی اسپتالوں کو بھی اس منصوبے میں شمولیت کی ترغیب دی ہے۔ توقع ہے کہ 2030 تک یہ منصوبہ ملک بھر میں نافذ ہوگا، جس میں آنکولوجی، سرجری، امراضِ قلب، ایمرجنسی، زچہ و بچہ، امراضِ خون، جلدی امراض اور دیگر اہم شعبوں پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔