
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی پر ویتنام کی تشویش، فلسطین کے لیے دو ریاستی حل کی حمایت کا اعادہ
نیویارک، یورپ ٹوڈے: ویتنام نے مشرقِ وسطیٰ کے مختلف حساس مقامات پر بڑھتی ہوئی کشیدگی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے فلسطین کے مسئلے کے حل کے لیے دو ریاستی حل کی بھرپور حمایت کا اعادہ کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے اعلیٰ سطحی کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے، ویتنام کے نائب مستقل مندوب وزیرِ مشیر نگوین ہوانگ نگوین نے خودمختار ریاستوں کے خلاف فوجی کارروائیوں کی مخالفت کی، بالخصوص ان ممالک کے خلاف جو تنازع میں فریق نہیں ہیں۔ انہوں نے اقوامِ متحدہ کے اہلکاروں اور تنصیبات پر حملوں کی بھی سخت مذمت کی۔
انہوں نے لبنان میں اقوامِ متحدہ کے عبوری امن مشن (یونِفل) پر حالیہ حملوں میں جاں بحق ہونے والے امن اہلکاروں کے لواحقین، متعلقہ حکومتوں اور اقوامِ متحدہ سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔
ویتنامی نمائندے نے زور دیا کہ شہریوں اور بنیادی شہری ڈھانچے کا ہر حال میں تحفظ یقینی بنایا جائے، جیسا کہ اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 2573 (2021) میں بھی واضح کیا گیا ہے۔
انہوں نے بین الاقوامی قوانین، خصوصاً 1982 کے اقوامِ متحدہ کے کنونشن برائے قانونِ سمندر کے مطابق سمندری و فضائی آمد و رفت کی آزادی، تحفظ اور سلامتی کو یقینی بنانے کی اہمیت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ نہ صرف مشرقِ وسطیٰ، خصوصاً آبنائے ہرمز، میں استحکام کے لیے ضروری ہے بلکہ عالمی توانائی کی فراہمی، غذائی تحفظ، تجارتی بہاؤ اور مجموعی معاشی استحکام کے لیے بھی ناگزیر ہے۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ حالیہ پیش رفت فلسطین کے مسئلے کو پسِ پشت نہ ڈالے۔ انہوں نے فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت، فلسطین کی اقوامِ متحدہ میں مکمل رکنیت اور 1967 سے قبل کی سرحدوں کی بنیاد پر دو ریاستی حل کی ویتنام کی مستقل حمایت کا اعادہ کیا۔
یہ اجلاس اپریل 2026 کے لیے سلامتی کونسل کے صدر کی حیثیت سے بحرین کے وزیرِ خارجہ کی زیرِ صدارت منعقد ہوا، جس میں غزہ، مغربی کنارہ، جنوبی لبنان اور آبنائے ہرمز سمیت مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ پیچیدہ صورتحال پر تفصیلی غور کیا گیا۔
اجلاس میں شریک ممالک نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی قانون، اقوامِ متحدہ کے منشور اور متعلقہ قراردادوں کی مکمل پاسداری کریں، جنگ بندی کے معاہدوں کا احترام کریں اور کشیدگی کے خاتمے اور پائیدار امن کے قیام کے لیے سفارتی کوششوں کو تیز کریں۔
آبنائے ہرمز کے حوالے سے شرکاء نے سمندری سلامتی اور آمد و رفت کی آزادی کو یقینی بنانے کی فوری ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ عالمی تجارت، توانائی کی فراہمی، غذائی تحفظ اور انسانی صورتحال پر منفی اثرات کو کم کرنا ناگزیر ہے۔