مراکش

فرانسیسی عوام کی نظر میں مراکش سب سے قابلِ اعتماد افریقی شراکت دار

Read Time:3 Minute, 4 Second

رابط: فرانسیسی عوامی رائے سے متعلق ایک نئے سروے میں مراکش اور الجزائر کے بارے میں تصورات میں واضح فرق سامنے آیا ہے، جس کے مطابق بدلتی عالمی صورتحال اور بڑھتی ہوئی جغرافیائی سیاسی غیر یقینی کے ماحول میں مراکش فرانس کا سب سے مثبت انداز میں دیکھا جانے والا افریقی شراکت دار بن کر ابھرا ہے۔

یہ سروے ٹولونا ہیرس انٹرایکٹو نے ایم جی ایچ پارٹنرز کے لیے کیا، جس میں 72 فیصد فرانسیسی شہریوں نے رائے دی کہ فرانس کے لیے مراکش کے ساتھ خصوصی تعلقات برقرار رکھنا فائدہ مند ہے، جبکہ تقریباً ہر پانچ میں سے ایک شخص نے دونوں ممالک کے تعلقات کو “انتہائی مثبت” قرار دیا۔

سروے کے نتائج کے مطابق فرانسیسی عوام میں مراکش پر اعتماد کی سطح نمایاں طور پر بلند ہے، جہاں تقریباً 40 فیصد شرکاء نے مراکش کو فرانس کا اتحادی قرار دیا۔ تحقیق میں یہ بھی بتایا گیا کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران مراکش کے بارے میں مثبت تاثر میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور مراکش کو قابلِ اعتماد شراکت دار سمجھنے والوں کی تعداد میں 13 پوائنٹس کا اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔

رپورٹ میں مراکش کی مثبت ساکھ کی بڑی وجوہات میں فرانس کے ساتھ سکیورٹی، انسداد دہشت گردی اور غیر قانونی ہجرت کی روک تھام کے شعبوں میں قریبی تعاون کو اہم قرار دیا گیا۔ سروے میں شامل افراد نے مراکش کو خطے میں استحکام کی علامت بھی قرار دیا، خاص طور پر ایسے وقت میں جب دنیا کے کئی خطے کشیدگی اور تنازعات کا سامنا کر رہے ہیں۔

اقتصادی تعاون کو بھی مثبت تاثر کے اہم عوامل میں شامل کیا گیا۔ اس وقت 800 سے زائد فرانسیسی کمپنیاں مراکش میں کام کر رہی ہیں، جس سے مراکش فرانس کا افریقہ میں سب سے بڑا اقتصادی شراکت دار بن چکا ہے۔ قابلِ تجدید توانائی، صنعتی ترقی اور بنیادی ڈھانچے کے مشترکہ منصوبوں نے بھی مراکش کی حیثیت کو ایک مستحکم اور قابلِ اعتماد شراکت دار کے طور پر مزید مضبوط کیا ہے۔

سروے کے مطابق مراکش کے ساتھ قریبی تعلقات کی حمایت مختلف عمر کے طبقات میں بھی نمایاں رہی۔ 18 سے 24 سال عمر کے 64 فیصد افراد نے مراکش کے ساتھ تعلقات کے حق میں رائے دی، جبکہ 65 برس یا اس سے زائد عمر کے افراد میں یہ شرح 77 فیصد تک پہنچ گئی۔

دوسری جانب الجزائر کے بارے میں فرانسیسی عوام کی رائے زیادہ منقسم پائی گئی۔ صرف 51 فیصد شرکاء نے الجزائر کے ساتھ خصوصی تعلقات کو مثبت قرار دیا، جن میں سے محض 11 فیصد نے ان تعلقات کو “انتہائی مثبت” کہا۔

الجزائر سے متعلق منفی آراء زیادہ نمایاں رہیں، جہاں 26 فیصد شرکاء نے تعلقات کو “کافی منفی” جبکہ 19 فیصد نے “انتہائی منفی” قرار دیا۔ اعتماد کے اشاریے بھی کمزور رہے، کیونکہ صرف 17 فیصد افراد نے الجزائر کو اتحادی سمجھا، جبکہ 45 فیصد نے اس ملک کو خطرے کے احساس سے جوڑا۔

سروے میں ان نتائج کو فرانسیسی عوام میں بین الاقوامی شراکت داریوں پر کم ہوتے اعتماد کے وسیع تناظر میں دیکھا گیا۔ اگرچہ یورپی اتحادی ممالک اب بھی نسبتاً مضبوط حمایت حاصل کیے ہوئے ہیں، تاہم یورپ سے باہر کئی ممالک کے بارے میں شکوک و شبہات میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔

اس پس منظر میں مراکش کو ایک استثنائی مثال قرار دیا گیا، جس کی فرانس میں ساکھ مسلسل بہتر ہو رہی ہے، جبکہ الجزائر کو زیادہ پیچیدہ اور چیلنجنگ تاثر کا سامنا ہے۔

یہ سروے 5 سے 11 مئی کے درمیان فرانس بھر سے منتخب کیے گئے 1,240 نمائندہ افراد پر کیا گیا، جس میں یوکرین، مشرق وسطیٰ، ایران اور عالمی اقتصادی غیر یقینی سے جڑے جاری جغرافیائی سیاسی تناؤ کے دوران فرانسیسی عوام کی خارجہ پالیسی ترجیحات سے متعلق رجحانات کا جائزہ لیا گیا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
زرداری Previous post صدر زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کی کوئٹہ دھماکے کی شدید مذمت، دہشت گردی کے خاتمے کے عزم کا اعادہ
تاجکستان Next post تاجکستان میں ابو علی ابن سینا انٹرنیشنل ایوارڈ برائے طب کے قیام کا اعلان، عالمی طبی تحقیق کے فروغ پر زور