یہ بے ضمیری اور تخت و تاج بھی وہی

یہ بے ضمیری اور تخت و تاج بھی وہی

Read Time:31 Second

یہ بے ضمیری اور تخت و تاج بھی وہی
ستم کی آگ میں جلے مزاج بھی وہی

صدائے حق پکارتے چڑھے ہیں دار پر
یہاں کے قاضیوں کا ہر رواج بھی وہی

محبتوں کے دوستوں کو آج بھی سزا
یہاں تو جرمِ عشق کا خراج بھی وہی

بدل گئے ہیں چہرے اور لباسِ قاتل اب
ختم ہے عدل اور سیاہ راج بھی وہی

صدی کی ریت چیخ کر بتا رہی ہے آج
یہ ظلم کی سیاہ رات آج بھی وہی

یہ دہر کی شکست ہے، یہ وقت کی صدا
گھٹن میں ڈوبتے ہوئے رواج بھی وہی

خبر نہیں، کہاں گئی وہ روشنی ، علی
نِظام آج بھی وہی، سماج بھی وہی

About Post Author

محمدعلی پاشا

“دی گلف آبزرور” اور “دی یورپ ٹوڈے” کے مالک اور سرپرستِ اعلیٰ، چیئرمین “دی گلف آبزرور ریسرچ فورم”، خارجہ امور کے ماہر، تجزیہ کار، بین الاقوامی ایوارڈ یافتہ مصنف اور شاعر۔
Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
Previous post ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
مجھے گلے سے لگا لو بہت اداس ہوں میں Next post مجھے گلے سے لگا لو بہت اداس ہوں میں