
یہ بے ضمیری اور تخت و تاج بھی وہی
Read Time:31 Second
یہ بے ضمیری اور تخت و تاج بھی وہی
ستم کی آگ میں جلے مزاج بھی وہی
صدائے حق پکارتے چڑھے ہیں دار پر
یہاں کے قاضیوں کا ہر رواج بھی وہی
محبتوں کے دوستوں کو آج بھی سزا
یہاں تو جرمِ عشق کا خراج بھی وہی
بدل گئے ہیں چہرے اور لباسِ قاتل اب
ختم ہے عدل اور سیاہ راج بھی وہی
صدی کی ریت چیخ کر بتا رہی ہے آج
یہ ظلم کی سیاہ رات آج بھی وہی
یہ دہر کی شکست ہے، یہ وقت کی صدا
گھٹن میں ڈوبتے ہوئے رواج بھی وہی
خبر نہیں، کہاں گئی وہ روشنی ، علی
نِظام آج بھی وہی، سماج بھی وہی