پاکستان

پاکستان اور ترکیہ کا دوطرفہ تجارتی حجم 5 ارب ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ

Read Time:4 Minute, 42 Second

استنبول، یورپ ٹوڈے: وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف اور ترکیہ کے صدر رجب طیب اردوان نے پاکستان اور ترکیہ کے درمیان دوطرفہ تجارتی حجم کو پانچ ارب امریکی ڈالر تک بڑھانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری اور باہمی تجارت کے فروغ کے لیے تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے ہفتہ کے روز استنبول میں باہمی ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دوطرفہ تعلقات، تجارت، سرمایہ کاری، دفاع، توانائی، ٹرانسپورٹ، معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور علاقائی و عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا۔

وزیرِ اعظم شہباز شریف نے اپنے خطاب میں صدر اردوان کی قیادت میں ترکیہ کی غیر معمولی ترقی کو سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو ترکیہ کے ساتھ اپنی تاریخی اور برادرانہ دوستی پر فخر ہے۔ انہوں نے کہا کہ ترک کاروباری شخصیات کے ساتھ بزنس ٹو بزنس (B2B) فورم میں اہم ملاقاتیں ہوئیں جبکہ صدر اردوان کے ساتھ انتہائی تعمیری اور جامع مذاکرات کیے گئے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ممالک نے خصوصی اقتصادی زونز میں سرمایہ کاری بڑھانے پر تبادلہ خیال کیا ہے اور دوطرفہ تجارتی حجم کو پانچ ارب ڈالر تک لے جانے کے ہدف کے حصول کے لیے پُرعزم ہیں۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ عالمی اور علاقائی امور پر مشترکہ مؤقف رکھتے ہیں۔ انہوں نے قبرص کے مسئلے پر ترکیہ کے مؤقف کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے کشمیر کے مسئلے پر ترکیہ کی غیر متزلزل حمایت پر ترک قیادت کا شکریہ ادا کیا۔

شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کی کامیابی ترکیہ کی کامیابی اور ترکیہ کی ترقی پاکستان کی ترقی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کو اپنی اسٹریٹجک شراکت داری کو نئی جہت دینی ہوگی۔

وزیرِ اعظم نے صدر اردوان کی جانب سے پرتپاک استقبال اور مہمان نوازی پر اظہارِ تشکر کرتے ہوئے استنبول کو مشرق اور مغرب کے حسین امتزاج کا مظہر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ کے عوام ایک دوسرے سے دلی محبت رکھتے ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مشترکہ مذہب، ثقافت، تاریخ، بھائی چارے اور قربانیوں پر مبنی ہیں۔

انہوں نے یاد دلایا کہ ترکیہ کی جنگِ آزادی کے دوران برصغیر کے مسلمانوں نے بھرپور حمایت کی اور خواتین نے اپنے زیورات تک عطیہ کیے۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ نے ہمیشہ ہر مشکل وقت میں ایک دوسرے کا ساتھ دیا، خواہ جنگ ہو، زلزلہ، سیلاب یا دیگر قدرتی آفات۔

وزیرِ اعظم نے کہا کہ ترکیہ نے سیلاب سے متاثرہ علاقوں، خصوصاً مظفر گڑھ میں بھرپور امدادی کردار ادا کیا۔ انہوں نے صدر اردوان اور ان کی اہلیہ کی جانب سے سیلاب متاثرین کے لیے کی جانے والی خدمات کو سراہتے ہوئے کہا کہ ترک خاتونِ اول کی جانب سے اپنا ہار عطیہ کرنا پاکستانی عوام کے دل جیت لینے والا اقدام تھا۔

انہوں نے قدرتی آفات سے متاثرہ علاقوں میں جدید اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے قیام اور سماجی و اقتصادی ترقی میں ترکیہ کے تعاون کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور ترکیہ "ایک جان، دو قالب” ہیں اور مولانا جلال الدین رومی اور علامہ محمد اقبال کے افکار دونوں اقوام کے لیے رہنمائی کا سرچشمہ ہیں۔

اس موقع پر ترک صدر رجب طیب اردوان نے بلوچستان میں پیش آنے والے افسوسناک بس حادثے میں جاں بحق ہونے والے پاکستانی شہریوں کے اہل خانہ سے اظہارِ تعزیت کیا۔

انہوں نے کہا کہ ملاقات کے دوران دوطرفہ تعلقات کے علاوہ علاقائی اور عالمی امور پر بھی تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ صدر اردوان نے کہا کہ اسلام آباد مفاہمتی یادداشت کے نتیجے میں خطے میں کشیدگی میں کمی آنے پر دنیا نے اطمینان کا سانس لیا ہے اور اس پیش رفت میں پاکستان کے کردار کو سراہا جانا چاہیے۔

انہوں نے کہا کہ ترکیہ خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور مسائل کے سفارتی حل کے لیے ہر مثبت اقدام کی حمایت کرتا رہے گا۔ انہوں نے اسرائیلی حکومت پر الزام عائد کیا کہ وہ معاہدے کو سبوتاژ کرنے کے لیے اشتعال انگیزی کر رہی ہے جبکہ غزہ میں اسرائیلی کارروائیاں بھی بدستور جاری ہیں۔

صدر اردوان نے کہا کہ ترکیہ خطے میں ایسے پُرامن ماحول کے قیام کا خواہاں ہے جہاں تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے افراد امن اور سلامتی کے ساتھ زندگی گزار سکیں۔ انہوں نے کہا کہ اس مقصد کے لیے ترکیہ پاکستان سمیت برادر ممالک کے ساتھ مل کر امن، استحکام اور خوشحالی کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں جاری رکھے گا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ ہر شعبے میں یکجہتی برقرار ہے اور دونوں ممالک نے تجارتی و سرمایہ کاری تعلقات کو مزید وسعت دینے کے اقدامات پر اتفاق کیا ہے۔

صدر اردوان نے بتایا کہ دونوں ممالک نے پانچ ارب امریکی ڈالر کے دوطرفہ تجارتی حجم کے ہدف کی دوبارہ توثیق کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کراچی میں کاروباری برادری کے لیے خصوصی اقتصادی زون کے قیام پر متعلقہ وزارتیں کام کر رہی ہیں جبکہ ترجیحی تجارتی معاہدے کے دائرہ کار کو مزید وسعت دینے کے لیے بھی مذاکرات جاری ہیں۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ وزیرِ اعظم شہباز شریف کی بزنس فورم میں شرکت سرمایہ کاری اور تجارت کے فروغ میں اہم کردار ادا کرے گی۔ صدر اردوان نے ترک سرمایہ کاروں کو پاکستان میں مزید سرمایہ کاری کی ترغیب دیتے ہوئے کہا کہ دفاعی صنعت میں تعاون دونوں ممالک کے اقتصادی تعلقات کا اہم ستون ہے اور یہ تعاون ہر گزرتے دن کے ساتھ مزید مضبوط ہو رہا ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ترکیہ پاکستان کے ساتھ توانائی، ٹرانسپورٹ، اہم معدنیات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو مزید گہرا کرنے کا خواہاں ہے اور دونوں ممالک نے اس مشترکہ عزم کا ایک بار پھر اعادہ کیا ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
آذربائیجان Previous post آذربائیجان اور عالمی بینک کے درمیان سڑکوں کے شعبے میں تعاون جاری رکھنے پر اتفاق