مراکش

مراکش کا سرکاری جامعات کی تعداد 12 سے بڑھا کر 27 کرنے کا منصوبہ، اعلیٰ تعلیم تک رسائی بہتر بنانے پر توجہ

Read Time:3 Minute, 8 Second

رباط، یورپ ٹوڈے: مراکش نے اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں جامع اصلاحات کے تحت سرکاری جامعات کی تعداد 12 سے بڑھا کر 27 کرنے کا منصوبہ بنایا ہے، جس کا مقصد ملک کے مختلف خطوں کے درمیان تعلیمی سہولیات کے فرق کو کم کرنا اور طلبہ کے لیے جامعات تک رسائی کو بہتر بنانا ہے۔

مراکش ورلڈ نیوز کے مطابق، وزیر برائے اعلیٰ تعلیم، سائنسی تحقیق اور اختراع عزالدین المدعاوی نے پیر کو ایوانِ نمائندگان کے اجلاس کے دوران اس منصوبے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اعلیٰ تعلیمی اداروں کی جغرافیائی تقسیم کو متوازن بنانے اور ملک کے تمام علاقوں میں تعلیمی مواقع فراہم کرنے کے لیے اقدامات کر رہی ہے۔

وزیر کے مطابق، 2024 سے 2026 کے دوران ملک میں 66 جامعاتی ادارے قائم کیے گئے ہیں، جبکہ مزید 17 اداروں کے قیام سے متعلق مسودہ احکامات منظوری کے منتظر ہیں۔ قائم کیے جانے والے اداروں میں سے 46 موجودہ اوپن ایکسس تعلیمی اداروں کی تقسیم یا تنظیمِ نو کے نتیجے میں وجود میں آئے، جبکہ 20 ادارے جامعاتی اداروں کی نئی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔

مجوزہ اصلاحات کے تحت مراکش کے تمام 12 انتظامی خطوں میں کم از کم ایک سرکاری جامعہ قائم کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس منصوبے میں دخلا، العیون، گلمیم اور ارشیدیہ جیسے علاقوں کو بھی شامل کیا گیا ہے، تاکہ دور دراز علاقوں کے طلبہ کو اپنے علاقوں کے قریب اعلیٰ تعلیم حاصل کرنے کے مواقع میسر آ سکیں۔

حکومت کو توقع ہے کہ جامعات کی تعداد میں اضافے سے موجودہ اداروں میں طلبہ کے غیر معمولی دباؤ کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ منصوبے کے تحت فی جامعہ طلبہ کی اوسط تعداد تقریباً 95 ہزار سے کم کرکے 40 ہزار سے نیچے لانے کا ہدف بھی شامل ہے۔

منصوبے کے پہلے مرحلے میں جامعات کے مرکزی دفاتر کی تعمیر اور انتظامی امور کے لیے 200 ملین مراکشی درہم، یعنی تقریباً 20.1 ملین امریکی ڈالر مختص کرنے کی ضرورت کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ حکومت نے منصوبہ بندی کے لیے تمام 12 خطوں کی ضروریات کا جائزہ لیا ہے، جس میں آبادی، دستیاب وسائل اور مقامی اقتصادی و سماجی ترجیحات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔

عزالدین المدعاوی کے مطابق، نئے جامعاتی اداروں میں مختلف علمی شعبوں کے پروگرام متعارف کرائے جائیں گے۔ ان کے نصاب کو متعلقہ خطوں کی ضروریات کے مطابق ترتیب دیا جائے گا، جبکہ قومی ترقی کے اہداف اور افریقہ سمیت عالمی سطح پر مراکش کی تعلیمی موجودگی کو مضبوط بنانے پر بھی توجہ دی جائے گی۔

جامعات کے جغرافیائی پھیلاؤ سے ان خاندانوں پر مالی بوجھ کم ہونے کی بھی توقع ہے جن کے بچوں کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کے لیے دوسرے شہروں کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ جامعات کو طلبہ کے گھروں کے قریب لانے سے رہائش اور آمدورفت کے اخراجات میں کمی آئے گی، جبکہ دیہی علاقوں کی طالبات اور کم وسائل رکھنے والی برادریوں کے لیے تعلیمی مواقع میں اضافے کی راہ ہموار ہوگی۔

اصلاحات کا ایک اہم مقصد تعلیمی پروگراموں کو روزگار کی منڈی کی ضروریات سے ہم آہنگ کرکے فارغ التحصیل طلبہ کے لیے ملازمت کے امکانات بہتر بنانا بھی ہے۔ حکومت کو توقع ہے کہ جامعات اور تربیت یافتہ پیشہ ور افراد کی متوازن علاقائی تقسیم سے مقامی سرمایہ کاری کو فروغ ملے گا اور ملک کے بڑے تعلیمی مراکز سے باہر سائنسی، ثقافتی اور سماجی سرگرمیوں میں اضافہ ہوگا۔

مراکش کی حکومت کی جانب سے مجوزہ یہ اصلاحات اعلیٰ تعلیم کو زیادہ قابلِ رسائی بنانے اور اسے علاقائی ترقی کی ضروریات سے ہم آہنگ کرنے کی وسیع تر کوششوں کا حصہ ہیں۔ تاہم، منصوبے کی کامیابی کا انحصار نئے اداروں کو مناسب سہولیات سے آراستہ کرنے، معیاری تعلیمی پروگرام فراہم کرنے اور انہیں طلبہ کی ضروریات اور علاقائی روزگار کی منڈی کے تقاضوں سے ہم آہنگ رکھنے پر ہوگا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
طالبان Previous post پاک افغان سرحد پر افغان طالبان رجیم کی اشتعال انگیزی، ایک شہری شہید، ایک ہی خاندان کے 5 افراد زخمی؛ پاک فوج کا بھرپور جوابی کارروائی میں متعدد افغان چیک پوسٹیں تباہ
ہنوئی Next post ہنوئی میں ہوان کیم جھیل کے اطراف 860 ملین ڈالر سے زائد مالیت کے ترقیاتی منصوبے کی تجویز، 2029 تک تکمیل کا ہدف