
کیوبا کے سفیر کا اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی مستقل حمایت پر اظہارِ تشکر، امریکی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: پاکستان میں کیوبا کے سفیر ڈیمیان کورڈیرو ٹوریس نے بین الاقوامی فورمز، بالخصوص اقوامِ متحدہ میں کیوبا کے لیے پاکستان کی مستقل حمایت کو سراہتے ہوئے کئی دہائیوں پرانی امریکی پابندیوں کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے، جن کے بارے میں ہوانا کا کہنا ہے کہ انہوں نے ملک کی معیشت، نظامِ صحت اور توانائی کے شعبے کو شدید متاثر کیا ہے۔
کیوبا پر امریکی پابندیاں ختم کرنے سے متعلق قرارداد پر اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ہونے والی سالانہ رائے شماری سے قبل اسلام آباد میں پریس بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے سفیر نے پاک کیوبا تعلقات کو تاریخی، دوستانہ اور باہمی احترام و یکجہتی پر مبنی قرار دیا۔
انہوں نے پابندیوں کے خلاف اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے حق میں مسلسل ووٹ دینے پر حکومتِ پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور کہا کہ کیوبا پاکستان کے اصولی مؤقف کی قدر کرتا ہے، جو اقوامِ متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قانون، ریاستی خودمختاری اور دیگر ممالک کے اندرونی معاملات میں عدم مداخلت کے احترام پر مبنی ہے۔
سفیر نے کہا، "پاکستان ہمیشہ بین الاقوامی معاملات پر کیوبا کے ساتھ کھڑا رہا ہے اور اقوامِ متحدہ میں ہمارے مؤقف کی مسلسل حمایت کی ہے۔ ہم اس دوستی اور یکجہتی کی بے حد قدر کرتے ہیں۔”
2005ء کے تباہ کن زلزلے کے بعد کیوبا کی انسانی امداد کا ذکر کرتے ہوئے سفیر نے بتایا کہ مانسہرہ اور بالاکوٹ کے دوروں کے دوران انہوں نے دیکھا کہ مقامی لوگ آج بھی ان کیوبن طبی ٹیموں کی خدمات کو یاد کرتے ہیں جنہوں نے پاکستان کے مشکل ترین دور میں یہاں خدمات انجام دیں۔
انہوں نے کہا، "میں نے مانسہرہ اور بالاکوٹ کا دورہ کیا اور اپنی آنکھوں سے دیکھا کہ لوگ کیوبا کی مدد کو نہیں بھولے۔ پاکستان اپنے دوستوں کو کبھی نہیں بھولتا، اور کیوبا بھی پاکستان کی یکجہتی کو کبھی نہیں بھولتا۔”
پابندیوں کے اثرات پر روشنی ڈالتے ہوئے سفیر نے کہا کہ معاشی پابندیوں اور مالیاتی قدغنوں نے ادویات، ایندھن اور طبی آلات سمیت بنیادی اشیاء کی درآمد کی صلاحیت کو بری طرح محدود کر دیا ہے۔ ان کے مطابق ایندھن کی قلت کے باعث بجلی کی مسلسل کمی سے ملک بھر کے اسپتال متاثر ہوئے ہیں، ایک لاکھ سے زائد سرجریاں التوا کا شکار ہیں، جبکہ کینسر کے متعدد مریضوں کو بنیادی علاج کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کیوبا، جو کبھی اپنی ادویات خود تیار کرنے اور دیگر ممالک کو طبی امداد فراہم کرنے کے لیے جانا جاتا تھا، آج اپنی دوائیوں کی ضروریات پوری کرنے کے لیے جدوجہد کر رہا ہے۔ تاہم ان مشکلات کے باوجود کیوبا اپنے عوامی نظامِ صحت اور سماجی بہبود کے نظام کو برقرار رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔
واشنگٹن کی پالیسی پر تنقید کرتے ہوئے سفیر نے کہا کہ پابندیوں کا مقصد کیوبا کو معاشی اور مالی طور پر تنہا کرنا ہے۔ انہوں نے کیوبا پر دہشت گردی کی سرپرستی کے الزامات کو سیاسی محرکات پر مبنی قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔
انہوں نے کہا، "کیوبا کے عوام چھ دہائیوں سے زائد عرصے سے ان پالیسیوں کے نتائج بھگت رہے ہیں۔ کیوبا مکالمے اور باہمی احترام پر یقین رکھتا ہے، لیکن ایسی بات چیت برابری اور ہماری خودمختاری کے اعتراف کی بنیاد پر ہونی چاہیے۔”
اس سوال کے جواب میں کہ کیا پاکستان، چین یا روس جیسے ممالک کیوبا اور امریکہ کے درمیان ثالثی کر سکتے ہیں، سفیر نے کہا کہ یہ بنیادی طور پر ایک دوطرفہ معاملہ ہے۔ "ہم مکالمے کے لیے تیار ہیں، لیکن بات چیت باہمی احترام کی فضا میں اور کسی دباؤ کے بغیر ہونی چاہیے۔”
سفیر نے کیوبا کی حالیہ معاشی اور توانائی کی مشکلات کے دوران چین، روس اور میکسیکو کی معاونت کا اعتراف کرتے ہوئے بتایا کہ روس نے تیل کی ترسیل فراہم کی جبکہ دیگر شراکت داروں نے توانائی سے متعلق منصوبوں میں تعاون کیا۔ انہوں نے مزید کہا کہ کیوبا غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنے کے لیے معاشی لبرلائزیشن سمیت داخلی اصلاحات پر بھی عمل پیرا ہے۔
سفیر نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ جنرل اسمبلی کی آئندہ رائے شماری میں عالمی برادری ایک بار پھر بھرپور طریقے سے کیوبا کے مؤقف کی حمایت کرے گی۔ انہوں نے کہا کہ یہ سالانہ ووٹ یکطرفہ جابرانہ اقدامات کی عالمی مخالفت اور کثیرالجہتی نظام کی حمایت کی علامت بن چکا ہے۔
بریفنگ کے اختتام پر سفیر نے صحافیوں پر زور دیا کہ وہ پابندیوں کے انسانی اثرات کو اجاگر کرتے رہیں اور دونوں ممالک کے عوام کے درمیان روابط کو مضبوط بنائیں۔ انہوں نے کہا، "پاکستان اور کیوبا کی دوستی مضبوط ہے اور مسلسل پروان چڑھ رہی ہے۔ ہم پاکستان کی حمایت کے شکر گزار ہیں اور تعلیم، صحت، سفارت کاری اور بین الاقوامی امور میں تعاون کو مزید وسعت دینے کے خواہاں ہیں۔”