
ویتنام میں ہو چی منہ ہائی وے کے دو رویہ منصوبے کی تکمیل کا اہم مرحلہ، نئی سرمایہ کاری کی راہ ہموار
ہنوئی، یورپ ٹوڈے: ویتنام کے وزیر تعمیرات ٹران ہونگ منہ نے کہا ہے کہ قومی اسمبلی کی جانب سے قرارداد نمبر 38/2004/NQ-QH11 اور قرارداد نمبر 66/2013/QH13 پر عمل درآمد مکمل کرنے سے متعلق قرارداد کی منظوری ہو چی منہ ہائی وے کو اس کے پورے روٹ پر دو رویہ شاہراہ کے طور پر منسلک کرنے کے عمل کی باضابطہ تکمیل کی علامت ہوگی اور اس سے منصوبے میں سرمایہ کاری کے ایک نئے مرحلے کی راہ ہموار ہوگی۔
وزیر تعمیرات نے جمعہ کے روز قومی اسمبلی کے جاری دوسرے اجلاس کے مکمل ایوان کے مباحثے میں اظہار خیال کرتے ہوئے یہ بات کہی۔ اجلاس میں ملک کے سماجی و اقتصادی ترقیاتی منصوبے، سرکاری بجٹ اور عوامی سرمایہ کاری کے منصوبوں پر عمل درآمد کا جائزہ لیا گیا۔ اس موقع پر ہو چی منہ ہائی وے کے دو رویہ منصوبے کے حوالے سے قرارداد نمبر 66/2013/QH13 پر عمل درآمد کی حتمی رپورٹ اور تعمیراتی سرمایہ کاری کے مرحلے کو باضابطہ طور پر مکمل قرار دینے کے معاملے پر بھی غور کیا گیا۔
بحث کے دوران صوبہ آن جیانگ سے تعلق رکھنے والی رکن قومی اسمبلی لی انہ تھو نے کہا کہ ہو چی منہ ہائی وے تاریخی اور سیاسی اہمیت کا حامل بنیادی ڈھانچے کا منصوبہ ہے، جو اس شاہراہ کے اطراف آباد کمیونٹیز کی دیرینہ خواہشات کی تکمیل کی عکاسی کرتا ہے۔
حکومتی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ چون تھانہ سے ڈک ہوا تک شاہراہ کا حصہ 97 فیصد مکمل ہو چکا ہے اور توقع ہے کہ اس کی تعمیر 2026 کے اختتام تک مکمل کر لی جائے گی۔ اسی طرح راچ سوئی سے بین نہت اور گو کاؤ سے وِنگ تھوان تک کے حصوں میں مجموعی طور پر 55 کلومیٹر میں سے تقریباً 42 کلومیٹر سڑک رواں سال کے اختتام تک مکمل ہونے کی توقع ہے، جبکہ باقی 13 کلومیٹر کی تعمیر 2027 کی پہلی سہ ماہی میں مکمل کی جائے گی۔
لی انہ تھو نے اس بات پر زور دیا کہ شاہراہ پر تکنیکی بنیادوں پر ٹریفک کی آمدورفت شروع کرنے اور تمام حفاظتی و تعمیراتی معیارات کے مطابق منصوبے کی مکمل تکمیل کے درمیان واضح فرق کو ملحوظ خاطر رکھنا ضروری ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ باقی ماندہ حصوں کی تعمیر 2027 کی پہلی سہ ماہی تک مکمل کرنے کے اپنے وعدے پر عمل درآمد کرے اور متاثرہ سڑکوں کی مرمت و بحالی یقینی بنائے تاکہ اگلے سال 30 اپریل سے قبل شاہراہ کو محفوظ انداز میں ٹریفک کے لیے کھولا جا سکے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر مقررہ تاریخ تک پورا روٹ منسلک نہ ہوا اور اس پر محفوظ آمدورفت کی ضمانت نہ دی جا سکی تو دونوں قراردادوں میں طے شدہ اہداف پر عمل درآمد مکمل قرار دینے کے فیصلے پر نظرثانی کی جانی چاہیے۔
ان تحفظات کا جواب دیتے ہوئے وزیر تعمیرات ٹران ہونگ منہ نے وضاحت کی کہ دو رویہ شاہراہ کی تعمیراتی سرمایہ کاری کے مرحلے کو باضابطہ طور پر مکمل قرار دینے کا مقصد دونوں قراردادوں کے تحت طے شدہ مرحلہ وار سرمایہ کاری کے دور کا اختتام ہے۔ اس اقدام کے ذریعے شمالی پہاڑی صوبے کاؤ بانگ کے علاقے پاک بو سے لے کر ملک کے انتہائی جنوبی صوبے کاؤ ماؤ کے علاقے ڈٹ مائی تک ہو چی منہ ہائی وے کو دو رویہ شاہراہ کے طور پر منسلک کرنے کے بنیادی ہدف کو باضابطہ تسلیم کیا جائے گا، جبکہ طویل المدتی منصوبہ بندی کے مطابق آئندہ سرمایہ کاری کے مرحلے کی بنیاد بھی فراہم ہوگی۔
تاہم وزیر نے واضح کیا کہ دو رویہ شاہراہ کی تعمیراتی سرمایہ کاری کے مرحلے کا اختتام اس بات کا مطلب نہیں کہ پورا منصوبہ مکمل ہو چکا ہے۔ 2021 سے 2030 کے قومی روڈ نیٹ ورک ماسٹر پلان اور 2050 تک کے وژن کے تحت ہو چی منہ ہائی وے بدستور ملک کی ایک اہم قومی شاہراہ ہے، جسے مستقبل میں ایکسپریس وے کے معیار تک اپ گریڈ کرنے کے لیے مزید سرمایہ کاری درکار ہوگی۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی منصوبے کو مکمل اسی وقت قرار دیا جا سکتا ہے جب تعمیراتی کام، معائنہ، منظوری، قبولیت اور آپریشنل مراحل کی تکمیل کے ساتھ حتمی مالی حسابات کا آڈٹ اور متعلقہ مجاز حکام سے منظوری بھی حاصل ہو جائے۔
وزیر تعمیرات کے مطابق مجوزہ قرارداد کا مقصد شاہراہ کے پورے روٹ پر مسلسل دو رویہ رابطے کے بنیادی ہدف کے حصول کو باضابطہ تسلیم کرنا اور منصوبے کو سرمایہ کاری کے اگلے مرحلے میں منتقل کرنے کے عمل کو آسان بنانا ہے۔
منصوبے کی تازہ ترین پیش رفت سے آگاہ کرتے ہوئے ٹران ہونگ منہ نے بتایا کہ ہو چی منہ ہائی وے کی مجموعی لمبائی 2,656.5 کلومیٹر ہے، جس میں سے اب تک 2,499 کلومیٹر تعمیر کیے جا چکے ہیں۔ ان کے مطابق دسمبر 2026 کے اختتام تک تقریباً 2,643 کلومیٹر شاہراہ کی تعمیر مکمل ہونے کا امکان ہے، جبکہ گو کاؤ سے وِنگ تھوان تک آخری 13 کلومیٹر کا حصہ آئندہ سال کی پہلی سہ ماہی میں مکمل کر لیا جائے گا۔