
انڈونیشیا میں "سکولہ راکیات” منصوبے کے تحت مفت رہائشی تعلیمی اداروں کے قیام کی تیاریاں تیز، وزیر داخلہ
جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کے وزیر داخلہ ٹیٹو کارناویان نے کہا ہے کہ صدر پرابوو سوبیانتو کے وژن کے مطابق "سکولہ راکیات” (عوامی اسکول) پروگرام کے تحت مفت رہائشی تعلیمی اداروں کے قیام کے لیے علاقائی حکومتوں کے ساتھ قریبی رابطہ اور تعاون جاری ہے۔
اتوار کو جاری بیان کے مطابق وزیر داخلہ نے کہا کہ حکومت اس قومی ترجیحی منصوبے پر عمل درآمد کے لیے علاقائی حکومتوں کے کم استعمال ہونے والے سرکاری اثاثوں سے بھرپور استفادہ کرنا چاہتی ہے تاکہ ملک بھر میں جدید تعلیمی مراکز قائم کیے جا سکیں۔
ٹیٹو کارناویان نے یہ بات ہفتہ کے روز صوبہ پاپوا کے ضلع بیاک نمفور میں "سکولہ راکیات” کیمپس کی سنگِ بنیاد رکھنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ اس موقع پر انہوں نے اساتذہ اور طلبہ میں امدادی سامان بھی تقسیم کیا۔
انہوں نے کہا کہ "سکولہ راکیات” پروگرام حکومت کے ڈیٹا بیس میں رجسٹرڈ غریب اور انتہائی غریب خاندانوں کے بچوں کے لیے ترتیب دیا گیا ہے تاکہ انہیں معیاری تعلیم فراہم کر کے بہتر مستقبل کی راہ ہموار کی جا سکے۔
وزیر داخلہ کے مطابق تمام تعلیمی ادارے مکمل رہائشی (فل بورڈنگ) نظام کے تحت قائم کیے جا رہے ہیں، جہاں کلاس رومز، طلبہ کے ہاسٹلز، اساتذہ کی رہائش گاہیں اور کھیلوں کی جدید سہولیات فراہم کی جائیں گی۔
انہوں نے کہا کہ صدر پرابوو سوبیانتو کی جانب سے شروع کیا گیا یہ منصوبہ اس عزم کا عملی اظہار ہے کہ ملک کے ہر بچے کو بلاامتیاز معیاری تعلیم تک مساوی رسائی فراہم کی جائے۔ ان کے بقول صدر اس آئینی ذمہ داری سے بخوبی آگاہ ہیں کہ حکومت ملک بھر کے تمام بچوں کے لیے جامع اور مساوی تعلیمی مواقع کو یقینی بنائے۔
ٹیٹو کارناویان نے "سکولہ راکیات” پروگرام کو انڈونیشیا کے بانی رہنماؤں کے تعلیمی وژن اور عوامی امنگوں کی حقیقی عکاسی بھی قرار دیا۔
دورے کے دوران وزیر داخلہ نے 45 اساتذہ میں بنیادی ضروریات پر مشتمل امدادی پیکجز جبکہ 88 طلبہ میں پانی کی بوتلیں بھی تقسیم کیں۔
دریں اثنا، انڈونیشیا کے وزیر سماجی امور سیف اللہ یوسف نے قبل ازیں بتایا تھا کہ "سکولہ راکیات” پروگرام جولائی 2025 سے ملک بھر کے 166 مقامات پر جاری ہے، جہاں بیشتر تعلیمی ادارے فی الحال سرکاری عمارتوں میں عارضی طور پر کام کر رہے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت ملک بھر میں 100 سے زائد مقامات پر مستقل کیمپس تعمیر کر رہی ہے، جہاں ہر کیمپس میں تقریباً 2 ہزار سے 2 ہزار 500 طلبہ کو تعلیم فراہم کرنے کی گنجائش ہوگی۔
سیف اللہ یوسف کے مطابق گزشتہ سال "سکولہ راکیات” پروگرام میں طلبہ کی تعداد 15 ہزار سے تجاوز کر گئی تھی، جبکہ رواں سال داخلوں کے لیے مزید 30 ہزار نشستوں کا اضافہ کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، جس سے ملک میں معیاری اور مفت تعلیم کی فراہمی کو مزید وسعت ملے گی۔