فرانس کا آخری قید قاتل وہیلز اور ڈولفنز اسپین منتقل کرنے کا فیصلہ، جانوروں کے تحفظ پر نئی بحث چھڑ گئی

فرانس کا آخری قید قاتل وہیلز اور ڈولفنز اسپین منتقل کرنے کا فیصلہ، جانوروں کے تحفظ پر نئی بحث چھڑ گئی

Read Time:3 Minute, 8 Second

پیرس، یورپ ٹوڈے: فرانسیسی حکومت نے اپنے آخری قید سیٹیشینز (سمندری ممالیہ جانور)، جن میں دو قاتل وہیلز (اورکاز) اور 12 ڈولفنز شامل ہیں، کو اسپین کے چڑیا گھروں اور تفریحی پارکوں میں منتقل کرنے کے منصوبے کی منظوری دے دی ہے۔ یہ جانور فرانسیسی رویرا میں واقع میرین لینڈ اینٹیبز پارک میں رہتے ہیں، جو 2025 میں بند کر دیا گیا تھا۔

فرانس نے 2021 میں ایک قانون منظور کیا تھا جس کے تحت تفریحی شوز کے لیے سیٹیشینز کی افزائش اور قید میں رکھنے پر پابندی عائد کی گئی تھی۔ یہ قانون 2 دسمبر 2026 سے نافذ العمل ہوگا۔ میرین لینڈ اینٹیبز میں موجود اورکاز اور ڈولفنز پارک کی سب سے بڑی کشش سمجھے جاتے تھے۔

25 سالہ مادہ اورکا "ویکی” اور اس کا 12 سالہ بیٹا "کیجو” دونوں میرین لینڈ اینٹیبز میں پیدا ہوئے اور اپنی پوری زندگی کنکریٹ کے تالابوں میں گزارنے کے ساتھ نمائشی شوز کا حصہ رہے۔ اب انہیں اسپین کے جزائر کینری میں واقع ٹینیریف کے لورو پارکے منتقل کیا جائے گا۔

دوسری جانب 12 ڈولفنز کو اسپین کے شہروں ویلنشیا اور مالاگا کے دو مختلف پارکوں میں تقسیم کیا جائے گا، جبکہ بعض ڈولفنز کو مستقبل میں فرانس کے بیووال چڑیا گھر منتقل کرنے کا منصوبہ بھی زیر غور ہے، جب وہاں مناسب سہولیات دستیاب ہو جائیں گی۔

فرانسیسی عدالت کی جانب سے مقرر کردہ ماہرین کی ایک ٹیم نے فروری 2026 میں اپنی رپورٹ میں خبردار کیا تھا کہ میرین لینڈ اینٹیبز میں اورکاز کے زیر استعمال کنکریٹ کے تالاب شدید ساختی خرابی کا شکار ہو چکے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق اگر ان جانوروں کو جلد منتقل نہ کیا گیا تو انہیں ہلاک کرنا پڑ سکتا تھا۔

فرانس کے وزیر برائے ماحولیاتی منتقلی میتھیو لیفیو نے ایک بیان میں کہا کہ ہنگامی صورتحال کے پیش نظر بدترین نتائج سے بچنے کے لیے فوری اقدام ناگزیر تھا۔ ان کے مطابق لورو پارکے اس وقت اورکاز کے لیے سب سے موزوں اور قابل عمل متبادل ہے۔

جانوروں کی فلاح و بہبود کے لیے کام کرنے والی تنظیم ورلڈ اینیمل پروٹیکشن کے مطابق ان جانوروں کی منتقلی جون 2026 ہی میں متوقع ہے۔

اس فیصلے سے قبل فرانسیسی حکومت یونان، اٹلی اور کینیڈا میں قائم یا زیر تعمیر سمندری پناہ گاہوں میں ان جانوروں کو منتقل کرنے کے امکانات پر غور کر رہی تھی۔ ایسی پناہ گاہیں سابقہ قیدی سیٹیشینز کو نسبتاً قدرتی ماحول فراہم کرنے کے لیے بنائی جاتی ہیں، تاہم چونکہ یہ جانور اپنی زندگی کا بیشتر حصہ قید میں گزار چکے ہیں، اس لیے وہ آزاد سمندر میں زندہ رہنے کی ضروری مہارتوں سے محروم ہیں اور خوراک و نگہداشت کے لیے اب بھی انسانوں پر انحصار کرتے ہیں۔

امریکی اینیمل ویلفیئر انسٹی ٹیوٹ کی سمندری ممالیہ جانوروں کی ماہر نومی روز نے اس سے قبل کہا تھا کہ زیادہ قدرتی ماحول اور انسانی نگہداشت کا امتزاج ان جانوروں کی روزمرہ فلاح و بہبود کے لیے بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق وسیع سمندری حدود میں رہنے والے شکاری جانوروں کو محدود جگہوں میں قید رکھنے سے ان کی ذہنی اور جسمانی صحت پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

ادھر کینیڈا کے صوبے نووا اسکاٹیا کے ساحل پر زیر تعمیر وہیل سینکچری میں 2026 کے وسط تک ان اورکاز کو منتقل کرنے کی منصوبہ بندی بھی کی جا رہی تھی، تاہم یہ منصوبہ عملی شکل اختیار نہ کر سکا۔ اسی طرح کینیڈا کے ایک بند تفریحی پارک سے تعلق رکھنے والی بیلوگا وہیلز کی منتقلی کے دیگر منصوبے بھی تبدیل ہو گئے۔

فرانسیسی حکومت نے مئی 2026 کے اپنے بیان میں کہا کہ کینیڈا، یونان اور اٹلی میں مجوزہ پناہ گاہیں میرین لینڈ میں پیدا ہونے والی ہنگامی صورتحال کے تقاضوں کے مطابق فوری طور پر ان جانوروں کو قبول کرنے کی پوزیشن میں نہیں تھیں، جس کے باعث اسپین منتقلی کا فیصلہ کیا گیا۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
خورشید بانو ناتوان: آذربائیجان کی عظیم شاعرہ، سماجی رہنما اور انسان دوست شخصیت کو خراجِ تحسین Previous post خورشید بانو ناتوان: آذربائیجان کی عظیم شاعرہ، سماجی رہنما اور انسان دوست شخصیت کو خراجِ تحسین
بچوں میں رویہ جاتی عوارض کی تشخیص میں کمی، متعدد کیسز صحت کی خدمات سے اوجھل: سویڈش ادارے کا سروے Next post بچوں میں رویہ جاتی عوارض کی تشخیص میں کمی، متعدد کیسز صحت کی خدمات سے اوجھل: سویڈش ادارے کا سروے