انڈونیشیا

روس کے ساتھ جوہری توانائی تعاون، انڈونیشیا کا توانائی خودکفالت کے لیے تین سالہ ہدف

Read Time:3 Minute, 22 Second

جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کے وزیر خارجہ سوگیونو نے ملک کو آئندہ تین برسوں میں توانائی کے شعبے میں خودکفیل بنانے کے لیے روس کے ساتھ جوہری توانائی کی ٹیکنالوجی کی ترقی میں اسٹریٹجک تعاون پر زور دیا ہے۔

روس اور آسیان (ASEAN) شراکت داری کے 35 سال مکمل ہونے کے موقع پر روس کے شہر قازان میں منعقدہ سربراہی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے سوگیونو نے محفوظ متبادل توانائی ذرائع کی تلاش اور قابلِ تجدید توانائی کی جانب منتقلی کے لیے انڈونیشیا کے عزم کا اعادہ کیا۔

انڈونیشیا کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق سوگیونو نے کہا کہ جوہری توانائی کے میدان میں روس کا وسیع تجربہ دونوں ممالک کے درمیان مؤثر تعاون کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرتا ہے۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں ٹیکنالوجی کی منتقلی، افرادی قوت کی تربیت اور بین الاقوامی سطح کے اعلیٰ ترین حفاظتی معیارات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنایا جائے گا۔

وزیر خارجہ نے روس اور آسیان کے درمیان مضبوط اسٹریٹجک شراکت داری کی ضرورت پر بھی زور دیا تاکہ عالمی سپلائی چین میں بڑھتی ہوئی تقسیم اور رکاوٹوں کے اثرات کو کم کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ جنوب مشرقی ایشیا کی 67 کروڑ آبادی کو بیرونی جھٹکوں سے محفوظ رکھنے کے لیے خوراک اور توانائی کی مستحکم فراہمی انتہائی اہم ہے۔

انہوں نے کہا کہ روس توانائی، گندم اور کھاد کا ایک بڑا عالمی پیداواری ملک ہے، اس لیے آسیان منڈیوں کے لیے قابلِ اعتماد سپلائی چین برقرار رکھنے میں اس کا کردار نہایت اہم ہے۔ سوگیونو نے مزید کہا کہ سستی اور غذائیت سے بھرپور خوراک ہر گھرانے کی دسترس میں ہونی چاہیے اور اس مقصد کے لیے آسیان اور یوریشیائی خطے کے درمیان اقتصادی روابط کو مزید مضبوط بنانا ضروری ہے۔

علاقائی اور عالمی سیاست کے حوالے سے انہوں نے "قازان اعلامیہ” کو خوش آئند قرار دیا، جو انڈو پیسیفک کے بارے میں آسیان کے وژن اور تنظیم کی مرکزی حیثیت کے اصول سے ہم آہنگ ہے۔ انہوں نے امریکہ اور ایران کے درمیان کشیدگی میں کمی کے لیے مفاہمتی یادداشت (MoU) پر دستخط کا خیرمقدم کیا، تاہم فلسطین میں جاری انسانی بحران پر گہری تشویش کا اظہار بھی کیا۔

سوگیونو نے کہا کہ انڈونیشیا روس اور تمام آسیان رکن ممالک کے ساتھ مل کر اس بات کو یقینی بنانے کے لیے تیار ہے کہ یہ شراکت داری خطے میں استحکام، خوشحالی اور پائیدار امن کے فروغ میں مؤثر کردار ادا کرے۔

روسی تیل کی درآمد اور تیرتے ہوئے جوہری بجلی گھروں کا منصوبہ

دریں اثنا، انڈونیشیا نے اعلان کیا ہے کہ وہ امریکہ اور ایران کے تنازع کے باعث عالمی سپلائی چین میں پیدا ہونے والی رکاوٹوں کے پیش نظر اپنے توانائی ذخائر کو مضبوط بنانے کے لیے روس سے خام تیل درآمد کرے گا۔

صدر پرابوو سوبیانتو کے حالیہ دورۂ روس کے بعد طے پانے والے منصوبے کے تحت 2026 کے اختتام تک مرحلہ وار 15 کروڑ بیرل روسی خام تیل درآمد کیا جائے گا۔

اسی دوران انڈونیشیا روس کی سرکاری جوہری توانائی کمپنی "روساتوم” کے تعاون سے سمندر میں نصب کیے جانے والے تیرتے ہوئے جوہری بجلی گھروں (Floating Nuclear Power Plants) کے قیام کے امکانات کا بھی جائزہ لے رہا ہے۔

روساتوم کے ڈائریکٹر جنرل الیکسی لیخاچیوف نے تصدیق کی کہ انڈونیشیا کی جانب سے جوہری ٹیکنالوجی میں گہری دلچسپی ظاہر کیے جانے کے بعد دونوں فریقوں کے درمیان تجارتی مذاکرات کا آغاز ہو چکا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ چند ہفتے قبل صدر پرابوو سوبیانتو کی دعوت پر روساتوم کا ایک اعلیٰ سطحی وفد انڈونیشیا گیا تھا، جہاں تیرتے ہوئے جوہری ری ایکٹرز کے منصوبے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس منصوبے میں مقامی انڈونیشی کاروباری اداروں کو بھی شامل کیا جائے گا تاکہ ٹیکنالوجی کی مقامی سطح پر منتقلی اور ترقی کو یقینی بنایا جا سکے۔

روساتوم کے مطابق ہزاروں جزیروں پر مشتمل ملک انڈونیشیا کے لیے خصوصی بحری جہازوں یا بارجز پر نصب جوہری ری ایکٹرز روایتی زمینی بجلی کے نظام کے مقابلے میں زیادہ مؤثر اور کم لاگت حل ثابت ہو سکتے ہیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
اسلام آباد Previous post امریکہ اور ایران کے درمیان تاریخی اسلام آباد مفاہمتی یادداشت طے، پاکستان کی سفارتی کوششیں کامیاب
شہباز شریف Next post وزیراعظم شہباز شریف اور ایرانی صدر مسعود پزشکیان کا ٹیلیفونک رابطہ، اسلام آباد امن معاہدے کا خیرمقدم