
انڈونیشیا عالمی تجارتی معاہدوں سے فائدہ اٹھانے کے لیے کاروباری شعبے سے تعاون بڑھائے گا
جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کی وزارت تجارت نے بین الاقوامی تجارتی معاہدوں سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے اور برآمدات میں اضافے کے لیے انڈونیشین چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (Kadin) کے ساتھ تعاون کو مزید مضبوط بنانے کا اعلان کیا ہے۔
نائب وزیر تجارت دیاہ رورو ایسٹی ودیا پتری نے کہا کہ یہ حکمت عملی عالمی اقتصادی صورتحال کے باوجود انڈونیشیا کی برآمدی منڈیوں تک رسائی بڑھانے، قومی کاروباری اداروں کی مسابقت کو فروغ دینے اور تجارتی کارکردگی کے مثبت رجحان کو برقرار رکھنے کی حکومتی کوششوں کا حصہ ہے۔
پیر کو جاری بیان کے مطابق انہوں نے ’’تجارتی معاہدوں کے استعمال سے متعلق اجلاس‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی جانب سے طے پانے والے تجارتی معاہدے برآمدات میں اضافے اور نئی منڈیوں تک رسائی کے ذریعے اقتصادی ترقی کے اہم ذرائع ہیں۔
انہوں نے کہا کہ انڈونیشیا کی تجارتی کارکردگی مسلسل مضبوطی کا مظاہرہ کر رہی ہے، جس سے مستقبل کے حوالے سے امید افزا امکانات پیدا ہوئے ہیں۔
نائب وزیر تجارت کے مطابق اس وقت انڈونیشیا کے 25 بین الاقوامی تجارتی معاہدے نافذ العمل ہیں، جن کے تحت دنیا کے مختلف خطوں میں واقع 35 سے زائد ممالک کے ساتھ تجارتی روابط استوار ہیں۔ یہ ممالک عالمی مجموعی قومی پیداوار (GDP) کے تقریباً ایک تہائی اور دنیا کی نصف سے زیادہ آبادی کی نمائندگی کرتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ 2025 کے دوران انڈونیشیا کی تقریباً 68 فیصد برآمدات انہی شراکت دار ممالک کو کی گئیں، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ تجارتی معاہدے ملکی مصنوعات کے لیے نئی منڈیوں تک رسائی کے ایک اہم ستون بن چکے ہیں۔
دیاہ رورو ایسٹی ودیا پتری نے کہا کہ ان معاہدوں کے تحت دستیاب سہولتوں سے زیادہ فائدہ اٹھانا ایک اسٹریٹجک ترجیح ہے جسے مستقل بنیادوں پر فروغ دینا ضروری ہے۔
انہوں نے انڈونیشیا اور متحدہ عرب امارات کے درمیان جامع اقتصادی شراکت داری معاہدے (IUAE-CEPA) کو کامیاب مثال قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس معاہدے نے دونوں ممالک کے تجارتی تعلقات کو مزید مستحکم کیا ہے۔ ان کے مطابق متحدہ عرب امارات کے ساتھ انڈونیشیا کا تجارتی توازن، جو پہلے خسارے میں تھا، 2025 میں انڈونیشیا کے حق میں 1.62 ارب امریکی ڈالر کے سرپلس میں تبدیل ہوگیا۔
وزارت تجارت نے تجارتی معاہدوں سے استفادہ بڑھانے کے لیے متعدد معاون پروگراموں کو بھی فروغ دینے کا فیصلہ کیا ہے، جن میں خطوں کے لحاظ سے برآمدی معلومات کی فراہمی، برآمد کنندگان کے لیے تربیتی کلینکس اور انتظامی عمل کو آسان بنانے کے لیے الیکٹرانک سرٹیفکیٹ آف اوریجن (e-SKA) نظام کا نفاذ شامل ہے۔
اس موقع پر نائب وزیر تجارت نے کادن کو بھی دعوت دی کہ وہ ملک کے مختلف علاقوں میں کاروباری برادری تک رسائی کے لیے مزید مؤثر اور تعاملی فورمز کے انعقاد میں تعاون کرے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت اس بات کو یقینی بنانا چاہتی ہے کہ تمام کاروباری ادارے، بالخصوص مائیکرو، چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار (MSMEs) اور نئے برآمد کنندگان، تجارتی معاہدوں کے ذریعے دستیاب مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھا سکیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حکومت اور نجی شعبے کے درمیان مضبوط شراکت داری تجارتی معاہدوں کے استعمال میں اضافے، غیر روایتی منڈیوں میں برآمدات کے فروغ اور عالمی سپلائی چین میں انڈونیشیا کے مقام کو مزید مستحکم بنانے کے لیے ناگزیر ہے۔