
ایران کا امریکا کے ساتھ رابطوں کی تصدیق، معاہدوں پر سخت مؤقف اور آبنائے ہرمز پر قانون سازی کی تیاری
تہران، یورپ ٹوڈے: ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ امریکا کے ساتھ پیغامات کا تبادلہ جاری ہے، تاہم کسی واضح نتیجے تک پہنچنے سے قبل مذاکرات کے حوالے سے کوئی حتمی فیصلہ یا رائے نہیں دی جا سکتی۔
انہوں نے کہا کہ قیاس آرائیوں کو اہمیت نہیں دینی چاہیے اور صورتحال کو حقیقت پسندانہ انداز میں دیکھا جانا چاہیے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ دشمن کی باتوں اور وعدوں پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، اور امریکا کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ ٹھوس اور عملی نتائج کے بغیر ممکن نہیں ہوگا۔
انہوں نے مزید کہا کہ مخالف قوتیں ایران کے داخلی اتحاد کو کمزور کرنے اور ملک میں انتشار پھیلانے کی کوشش کر رہی ہیں، جبکہ فوجی ناکامیوں کا بدلہ معاشی دباؤ کے ذریعے لینے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
باقر قالیباف کے مطابق ایرانی عوام کے حقوق کے تحفظ کے بغیر کسی بھی معاہدے کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
اس کے علاوہ ایرانی پارلیمنٹ کے رکن علیرضا سلیمی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے علاقائی پانیوں کے درمیان واقع ہے، اور کسی دوسرے ملک کو اس حوالے سے فیصلے کرنے کا اختیار نہیں دیا جائے گا۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایرانی پارلیمنٹ جلد آبنائے ہرمز سے متعلق قانون سازی کی منظوری دینے پر غور کر رہی ہے۔