پاکستان

ایران–امریکا مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کے لیے پاکستان کی پیش کش

Read Time:1 Minute, 43 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: پاکستان نے ایران اور امریکا کے درمیان جاری سفارتی عمل کو آگے بڑھاتے ہوئے مذاکرات کے دوسرے مرحلے کی میزبانی کی پیش کش کر دی ہے۔ غیر ملکی خبر ایجنسیوں کے مطابق پاکستان نے تجویز دی ہے کہ سیز فائر کی مدت ختم ہونے سے قبل یہ مذاکرات اسلام آباد میں منعقد کیے جائیں، جبکہ دونوں فریق کسی ممکنہ معاہدے کے لیے نئے بالمشافہ مذاکرات پر غور کر رہے ہیں۔

اطلاعات کے مطابق اسلام آباد میں پہلے مرحلے کے بعد بھی پاکستان تہران اور واشنگٹن کے درمیان سفارتی رابطوں اور پیغامات کے تبادلے میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔ ایک امریکی خبر ایجنسی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ ایک امریکی عہدیدار نے امکان ظاہر کیا ہے کہ مذاکرات جمعرات کو دوبارہ شروع ہو سکتے ہیں، جبکہ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان بات چیت کا سلسلہ بدستور جاری ہے۔

امریکی ذرائع کا کہنا ہے کہ معاہدے تک پہنچنے کے لیے پیش رفت جاری ہے۔ یاد رہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان مذاکرات کا پہلا مرحلہ 11 اپریل کو اسلام آباد میں ہوا تھا، جہاں دونوں ممالک کے وفود کے درمیان تقریباً 21 گھنٹے طویل مذاکرات ہوئے، تاہم یہ بات چیت کسی حتمی معاہدے کے بغیر ختم ہو گئی تھی۔
اس حوالے سے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے ایک انٹرویو میں کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات میں مثبت پیش رفت ہوئی ہے اور امریکی تجاویز ایرانی فریق کے سامنے رکھ دی گئی ہیں، اب فیصلہ ایران کے ہاتھ میں ہے۔ دوسری جانب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی اپنے بیان میں کہا کہ ایران معاہدہ کرنے کا خواہاں ہے اور متعدد نکات پر پیش رفت ہو چکی ہے، تاہم انہوں نے ایرانی مؤقف پر تنقید بھی کی۔
تجزیہ کاروں کے مطابق پاکستان کی جانب سے مذاکرات کی میزبانی کی پیش کش خطے میں امن و استحکام کے فروغ کے لیے ایک اہم سفارتی پیش رفت قرار دی جا رہی ہے، جو ممکنہ طور پر ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی میں کمی کا باعث بن سکتی ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
وینس Previous post اسلام آباد مذاکرات: امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کی وزیرِاعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت کی تعریف