علییف

صدر الہام علییف نے 2026-2030 کے لیے ریاستی سیاحتی ترقیاتی پروگرام کی منظوری دے دی

Read Time:1 Minute, 46 Second

باکو، یورپ ٹوڈے: صدر آذربائیجان الہام علییف نے ملک میں سیاحت کے شعبے کی ترقی کے لیے ’’جمہوریہ آذربائیجان میں سیاحت کی ترقی کے لیے ریاستی پروگرام برائے 2026 تا 2030‘‘ کی منظوری دے دی۔

ریاستی پروگرام کا مقصد مسابقتی سیاحتی مصنوعات کو ملکی و بین الاقوامی سیاحتی منڈی میں متعارف کرانا، سیاحت کے شعبے میں انتظامی و ضابطہ جاتی نظام کو بہتر بنانا، ملک کے مختلف علاقوں میں سیاحت کے فروغ کو یقینی بنانا اور مؤثر برانڈنگ و مارکیٹنگ سرگرمیوں کو وسعت دینا ہے۔

صدارتی حکم کے تحت آذربائیجان کی کابینہ کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ چھ ماہ کے اندر ریاستی سیاحت ایجنسی کی تجاویز کی بنیاد پر ’’سیاحت سے متعلق‘‘ قانون میں ترامیم کے لیے صدر کو تجاویز پیش کرے۔

اسی طرح کابینہ کو تین ماہ کے اندر سیاحتی سرگرمیوں کی منفرد خصوصیات کو مدنظر رکھتے ہوئے سیاحت سے متعلق منصوبوں کے لیے سرمایہ کاری مراعاتی سرٹیفکیٹ جاری کرنے کے طریقہ کار پر نظرثانی کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

کابینہ کو ریاستی پروگرام میں شامل اقدامات کے باہمی رابطے اور ان پر عملدرآمد کی نگرانی یقینی بنانے کے ساتھ ساتھ پروگرام کے تحت طے شدہ اقدامات پر عملدرآمد سے متعلق سالانہ رپورٹ صدر آذربائیجان کو پیش کرنے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔

وزارتِ ڈیجیٹل ترقی و ٹرانسپورٹ کو تین ماہ کے اندر سیاحت کے فروغ میں فضائی نقل و حمل کے کردار کو بڑھانے سے متعلق تجاویز تیار کرکے کابینہ کو پیش کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔

ریاستی سیاحت ایجنسی کو صدارتی حکم سے پیدا ہونے والے امور کے حل کے لیے ضروری اقدامات کرنے کی ذمہ داری سونپی گئی ہے۔

وزارتِ خزانہ اور وزارتِ معیشت کو ہدایت کی گئی ہے کہ ریاستی بجٹ اور ریاستی سرمایہ کاری پروگراموں کی سالانہ تیاری کے دوران ریاستی پروگرام میں شامل سرگرمیوں کی مالی معاونت کے لیے ضروری مالی وسائل مختص کرنے کے مناسب اقدامات کیے جائیں۔

حکم کے مطابق اقتصادی اصلاحات کے تجزیے اور مواصلات کے مرکز کو ریاستی سیاحت ایجنسی کی جانب سے مقرر کردہ ریاستی پروگرام کے اقدامات پر عملدرآمد کی نگرانی اور ان کی کارکردگی کا جائزہ لینے کی ذمہ داری بھی سونپی گئی ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
ترکمانستان Previous post ترکمانستان اور آئی او ایم کے درمیان تعاون کے فروغ پر تبادلہ خیال
شہباز شریف Next post وزیراعظم شہباز شریف کی اپوزیشن کو تعمیری مذاکرات کی ایک بار پھر دعوت