
وفاقی بجٹ 2026-27: وزیراعظم شہباز شریف کی صنعتکاروں اور کاروباری رہنماؤں سے مشاورت، برآمدات پر مبنی ترقی پر زور
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم محمد شہباز شریف نے بدھ کے روز ملک کے ممتاز صنعتکاروں اور کاروباری شخصیات کے ساتھ مشاورتی اجلاس کی صدارت کی، جس میں آئندہ وفاقی بجٹ 2026-27 کی ترجیحات، اقتصادی پالیسی سازی اور معاشی بحالی کے عمل کو مزید مستحکم بنانے کے حوالے سے تجاویز پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
وزیراعظم آفس کے مطابق اجلاس میں اقتصادی ترقی کی مجموعی سمت، برآمدات پر مبنی نمو، سرمایہ کاری کے فروغ اور روزگار کے مواقع بڑھانے سے متعلق اقدامات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔
اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ پالیسی سازی میں کاروباری برادری سے مشاورت انتہائی اہمیت کی حامل ہے اور پاکستان کی معاشی بحالی حکومت اور نجی شعبے کے مضبوط اشتراک کے بغیر ممکن نہیں۔
اجلاس میں ملک کے معروف صنعتکار اور کاروباری رہنما، جن میں میاں محمد منشا، عارف حبیب، احسن ظفر سید، محمد علی طبا اور دیگر اہم اقتصادی شعبوں کے نمائندگان شامل تھے، شریک ہوئے۔
اجلاس میں وفاقی وزراء اور اعلیٰ حکام نے بھی شرکت کی، جن میں وفاقی وزیر قومی غذائی تحفظ رانا تنویر حسین، وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وزیر موسمیاتی تبدیلی مصدق ملک، وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وزیر اطلاعات عطا اللہ تارڑ، وزیر آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن شزا فاطمہ خواجہ، وزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک، وزیر توانائی سردار اویس احمد خان لغاری، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی، وزیراعظم کے معاون خصوصی ہارون اختر خان، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے گورنر جمیل احمد سمیت دیگر سینئر حکام شامل تھے۔
وزیراعظم نے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کہا، "آپ پاکستان کے سفیر اور دنیا میں ہماری شناخت ہیں” اور عالمی سطح پر ملک کی اقتصادی ساکھ کو بہتر بنانے میں کاروباری برادری کا کردار نہایت اہم ہے۔
انہوں نے مشکل معاشی حالات میں حکومت کا ساتھ دینے پر کاروباری برادری کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ پائیدار اقتصادی ترقی کے لیے سرکاری اور نجی شعبے کے درمیان مسلسل تعاون ناگزیر ہے۔
شہباز شریف نے کہا کہ حکومت برآمدات پر مبنی اقتصادی نمو کے ماڈل کی جانب پیش رفت کر رہی ہے اور یہی حکومتی اقتصادی پالیسی کا بنیادی ستون ہے۔
وزیراعظم نے بتایا کہ ٹیکس تنازعات کے جلد اور شفاف حل کے لیے ٹیکس ٹربیونلز میں اصلاحات کی جا رہی ہیں جبکہ خصوصی کمرشل عدالتوں کے قیام کے لیے ایک کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئندہ بجٹ میں عوام کو ریلیف فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ سرمایہ کاری کے فروغ اور معیشت کے استحکام کے لیے کاروبار دوست اقدامات شامل کیے جائیں گے۔
انہوں نے صنعتی، زرعی اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبوں کی ترقی کو حکومت کی ترجیحات قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ شعبے روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور طویل مدتی اقتصادی استحکام میں اہم کردار ادا کریں گے۔
وزیراعظم نے مزید کہا کہ نوجوانوں کی فنی و پیشہ ورانہ تربیت کے لیے مختلف پروگرامز شروع کیے گئے ہیں تاکہ ان کی ملازمت کے مواقع میں اضافہ ہو اور قومی ترقی کے اہداف حاصل کیے جا سکیں۔
اجلاس کے دوران حکام نے جاری اصلاحات پر بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ٹیکس تنازعات کے فوری حل، خصوصی کمرشل عدالتوں کے قیام اور کراچی کی بندرگاہوں سے ملک کے دیگر حصوں تک مال برداری کے نظام کو بہتر بنانے کے لیے مختلف انفراسٹرکچر منصوبوں پر کام جاری ہے۔
بریفنگ میں ایم-10 موٹروے کی اپ گریڈیشن، پپری فریٹ کوریڈور، ایم-13 (کھاریاں تا راولپنڈی) موٹروے منصوبے اور پاکستان ریلوے کے ایم ایل-1 اور ایم ایل-2 منصوبوں کا بھی ذکر کیا گیا، جن کا مقصد مال برداری اور لاجسٹکس نظام کو مزید مؤثر بنانا ہے۔
حکام نے قومی مصنوعی ذہانت (اے آئی) تبدیلی منصوبے اور چینی و سیمنٹ صنعتوں میں ویڈیو اینالیٹکس کے استعمال کے ذریعے ریونیو وصولیوں میں بہتری کے اقدامات سے بھی آگاہ کیا۔
کاروباری رہنماؤں نے حکومت کی اقتصادی پالیسیوں اور معیشت کے استحکام کے لیے کیے گئے اقدامات کو سراہتے ہوئے مالی نظم و ضبط، ڈیجیٹلائزیشن، ٹیکس اصلاحات، صنعتی شعبے کے لیے توانائی لاگت میں کمی اور بروقت ٹیکس ریفنڈز کی حمایت کی۔
انہوں نے علاقائی امن کے لیے پاکستان کی سفارتی کوششوں کی تعریف کی اور بجٹ مشاورت میں کاروباری برادری کو شامل کرنے پر وزیراعظم کا شکریہ ادا کیا۔
اجلاس کے اختتام پر کاروباری شخصیات نے صنعتوں کے فروغ، برآمدات میں اضافے اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے حکومت کے ساتھ مکمل تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اعادہ کیا۔