
آذربائیجان کی پارلیمنٹ نے شوشا کے ثقافتی ورثے کے تحفظ سے متعلق قانون میں ترامیم منظور کر لیں
باکو — آذربائیجان کی پارلیمنٹ (ملی مجلس) نے ’’شوشا — آذربائیجان کے ثقافتی دارالحکومت‘‘ سے متعلق قانون میں مجوزہ ترامیم کو ایک ہی قرأت میں منظور کر لیا، جس کا مقصد شہر کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کو مزید مضبوط بنانا ہے۔
یہ معاملہ 12 جون کو منعقدہ پارلیمنٹ کے اجلاس کے ایجنڈے میں شامل تھا، جہاں اراکین نے مجوزہ ترامیم پر غور کے بعد انہیں منظور کر لیا۔
ترمیمی مسودے کے تحت قانون کی شق 5.2 کو نئے انداز میں پیش کیا گیا ہے، جس میں شوشا شہر میں واقع تاریخی اور ثقافتی یادگاروں کے تحفظ کے لیے مزید سخت قانونی اقدامات شامل کیے گئے ہیں۔
ترمیم کے مطابق شوشا کے علاقے میں موجود یادگاروں کو نقصان پہنچانا یا انہیں تباہ کرنا، متعلقہ انتظامی ادارے کی منظوری کے بغیر کسی دوسری جگہ منتقل کرنا، یا ایسی تعمیراتی، تنصیبی، بحالی، ازسرِنو تعمیر، تحفظی یا تزئین و آرائش کی سرگرمیاں انجام دینا ممنوع ہوگا جو ان یادگاروں کی حرمت، سالمیت یا بقا کے لیے خطرہ بن سکتی ہوں۔
نئی ترامیم کا مقصد شوشا کے تاریخی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے قانونی فریم ورک کو مزید مضبوط بنانا ہے تاکہ ترقیاتی اور بحالی کے منصوبے ثقافتی آثار کی اصل حیثیت اور تاریخی اہمیت کو برقرار رکھتے ہوئے انجام دیے جا سکیں۔
شوشا آذربائیجان کی ثقافتی شناخت میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے اور حالیہ برسوں میں اس شہر کی تاریخی اہمیت کو اجاگر کرنے اور اس کے ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے وسیع پیمانے پر بحالی اور تعمیرِ نو کے منصوبے جاری ہیں۔
قانون میں منظور کی گئی نئی ترامیم سے شہر کے تاریخی مقامات اور ثقافتی یادگاروں کے تحفظ اور دیکھ بھال کے لیے قانونی اقدامات مزید مؤثر ہونے کی توقع ہے۔