
تاجکستان اور یونیسیف کا فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کے شعبے میں تعاون مزید وسعت دینے پر اتفاق
دوشنبے، یورپ ٹوڈے: تاجکستان کی ابتدائی اور ثانوی فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کی کمیٹی اور اقوامِ متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) نے باہمی تعاون کا جائزہ لیتے ہوئے مستقبل میں شراکت داری کے ترجیحی شعبوں کا تعین کیا ہے۔
یکم جون کو ہونے والے اجلاس میں فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کے شعبے میں جاری مشترکہ منصوبوں اور اقدامات کے نتائج کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔
کمیٹی کے چیئرمین فرہود رحیمی نے یونیسیف کے ساتھ تعاون کی موجودہ سطح پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ حکومتی ادارہ باہمی تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔
تاجکستان میں یونیسیف کے نمائندہ دفتر کے سربراہ آرتھر فان ڈیزن نے ابتدائی اور ثانوی فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کے فروغ کے لیے تاجک حکومت کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس شعبے کو قومی تزویراتی ترجیحات میں شامل کرنا قابلِ تحسین اقدام ہے۔
انہوں نے کہا کہ تعلیم کے شعبے میں تاجکستان کی طویل المدتی منصوبہ بندی ایک مؤثر نمونہ ہے جو دیگر ممالک کے لیے بھی مثال بن سکتی ہے۔
اجلاس کے اختتام پر دونوں فریقوں نے اس بات پر زور دیا کہ 2027 سے 2030 کے لیے اقوامِ متحدہ اور حکومتِ تاجکستان کے درمیان تعاون کے نئے مرحلے کا فریم ورک، جو اس وقت حتمی منظوری کے مراحل میں ہے، باہمی شراکت داری کو مزید وسعت دینے کے لیے مضبوط بنیاد فراہم کرے گا، جس میں فنی و پیشہ ورانہ تعلیم کا شعبہ بھی شامل ہے۔
فریقین نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ نوجوانوں کی مہارتوں میں اضافے اور روزگار کے بہتر مواقع کی فراہمی کے لیے مشترکہ کوششیں جاری رکھی جائیں گی۔