
ویتنامی وفد کا ٹیکسلا میوزیم کا دورہ، گندھارا تہذیب کے ورثے کا مشاہدہ
پی سی ای سی ٹی سی کے تعاون سے دورہ، ثقافتی سفارت کاری کے ذریعے پاک ویتنام تعلقات کے فروغ پر زور
ٹیکسلا، یورپ ٹوڈے: پاکستان کریئیٹو اکانومی، کلچر اینڈ ٹریڈ کونسل (پی سی ای سی ٹی سی) نے ایک ویتنامی وفد کے تاریخی ٹیکسلا میوزیم کے دورے کا اہتمام کیا۔ وفد میں ویتنام کی وزارتِ صنعت و تجارت اور پاکستان میں ویتنام کے سفارت خانے سے وابستہ نمائندے شامل تھے۔ اس دورے کا مقصد پاکستان کے ثقافتی ورثے اور مثبت عالمی تشخص کو اجاگر کرنا تھا۔
دورے کی نگرانی اور رابطہ کاری پی سی ای سی ٹی سی کے بانی اور وفاقی وزیر برائے ثقافت کے اعزازی مشیر جناب سید عثمان طاہر نے خود کی۔ وہ پورے دورے کے دوران وفد کے ہمراہ رہے اور مہمانوں کو پاکستان کے تاریخی، ثقافتی اور آثارِ قدیمہ کے ورثے سے روشناس کرایا۔
وفد نے میوزیم میں موجود نوادرات کا مشاہدہ کیا اور قدیم گندھارا تہذیب اور اس کے بدھ مت ورثے کے بارے میں معلومات حاصل کیں۔ وفد نے بدھ مت کے مقدس درخت کے مقام کا بھی دورہ کیا۔ اس سے انہیں بدھ مت کی ثقافت کے ساتھ پاکستان کے تاریخی اور روحانی تعلق کو بہتر طور پر سمجھنے کا موقع ملا۔
اس موقع پر گفتگو کرتے ہوئے جناب سید عثمان طاہر نے کہا کہ پاکستان کے ثقافتی ورثے کا فروغ اور ملک کا مثبت عالمی تشخص اجاگر کرنا ایک مشترکہ ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ ذمہ داری متعلقہ وزارتوں، ثقافتی اداروں، کونسلوں اور قومی ورثہ، ثقافت، سیاحت اور بین الاقوامی تعلقات کے شعبوں میں کام کرنے والی تنظیموں پر عائد ہوتی ہے۔
انہوں نے وزارتِ قومی ورثہ و ثقافت اور اس کے ذیلی اداروں کے کردار کو اہم قرار دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی معززین، سفارت کاروں اور بین الاقوامی وفود کو پاکستان کی ثقافتی روایات، تاریخی مقامات اور تہذیبی ورثے سے متعارف کرانے میں ان اداروں کا اہم کردار ہے۔
جناب طاہر نے کہا کہ غیر ملکی مہمانوں کو روایتی تاثرات سے ہٹ کر پاکستان کو دیکھنے کے بامعنی مواقع ملنے چاہئیں، تاکہ وہ اس کے ثقافتی تنوع، مہمان نوازی اور بین الاقوامی تعاون کے امکانات سے آگاہ ہو سکیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کا مثبت تشخص دنیا کے سامنے پیش کرنا محض ایک موقع نہیں بلکہ ایک اہم ذمہ داری ہے۔
انہوں نے بتایا کہ پی سی ای سی ٹی سی اس مقصد کے لیے سرگرمی سے کام کر رہی ہے۔ کونسل دوروں کا اہتمام کرتی ہے، ثقافتی تبادلوں کی حوصلہ افزائی کرتی ہے اور بین الاقوامی روابط استوار کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مربوط کوششوں اور عالمی شراکت داروں سے روابط کے ذریعے باہمی افہام و تفہیم کو فروغ دیا جا سکتا ہے اور اقوام کے درمیان دیرپا تعلقات قائم کیے جا سکتے ہیں۔
کونسل نے ٹیکسلا میوزیم کے ڈپٹی ڈائریکٹر جناب محمد عاصم ڈوگر کا ان کے تعاون، مہمان نوازی اور معلوماتی رہنمائی پر شکریہ ادا کیا۔ دورے کے دوران میوزیم ٹیم کی معاونت پر جناب نعمان کو بھی خراجِ تحسین پیش کیا گیا۔ کونسل نے پنجاب ٹورازم فورس کے انسپکٹر اسامہ ریاض کا بھی شکریہ ادا کیا۔ ان کے سیکیورٹی انتظامات، لاجسٹک معاونت اور مہمان نوازی کی بدولت وفد کا دورہ محفوظ اور خوشگوار ماحول میں مکمل ہوا۔
اس دورے کو پاکستان اور ویتنام کے روابط کے فروغ کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا گیا۔ اس سے ثقافتی تبادلے، ورثہ سیاحت، ادارہ جاتی تعاون اور مستقبل میں دوطرفہ تجارتی مواقع کو تقویت ملے گی۔
پی سی ای سی ٹی سی نے متعلقہ وزارتوں، سرکاری اداروں، سفارتی مشنز اور ثقافتی تنظیموں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے عزم کا اعادہ کیا۔ کونسل نے کہا کہ وہ پاکستان کو بھرپور ورثے، تخلیقی صلاحیت، مہمان نوازی اور بین الاقوامی شراکت داری کے حامل ملک کے طور پر متعارف کراتی رہے گی۔