
موجودہ داخلی و علاقائی صورتحال کے پیشِ نظر وزیراعظم شہباز شریف کا دورۂ روس مؤخر
اسلام آباد: وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف نے موجودہ داخلی اور علاقائی صورتحال کے پیشِ نظر اپنا طے شدہ دورۂ روس مؤخر کر دیا ہے۔
وفاقی حکومت کی جانب سے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر جاری بیان کے مطابق وزیرِ اعظم نے موجودہ علاقائی اور ملکی حالات پر مشاورت کے بعد دورہ ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا۔ بیان میں کہا گیا کہ وزیرِ اعظم کا دورۂ روس دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو فروغ دینے کے لیے نہایت اہمیت کا حامل ہے، تاہم موجودہ صورتحال کے باعث اسے مؤخر کیا گیا ہے۔ دورے کی نئی تاریخ باہمی مشاورت سے بعد میں اعلان کی جائے گی۔
دریں اثنا وزیرِ اعظم نے ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ سید علی خامنہ ای کی شہادت پر ایرانی عوام سے دلی تعزیت کا اظہار کیا۔ ایکس پر اپنے پیغام میں انہوں نے لکھا کہ پاکستان کی حکومت اور عوام اس غم کی گھڑی میں ایرانی عوام کے ساتھ کھڑے ہیں اور رہبرِ اعلیٰ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہیں۔
وزیراعظم نے بین الاقوامی قوانین کی مبینہ خلاف ورزی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک مسلمہ اصول ہے کہ سربراہانِ مملکت یا حکومت کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے دعا کی کہ اللہ تعالیٰ مرحوم کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور ایرانی قوم کو اس ناقابلِ تلافی نقصان پر صبر و استقامت عطا فرمائے۔
قبل ازیں روسی خبر رساں اداروں نے پاکستان کے سفیر برائے روس فیصل نیاز ترمذی کے حوالے سے رپورٹ کیا تھا کہ وزیرِ اعظم کا دورہ 3 سے 5 مارچ تک متوقع تھا۔ روس نے افغانستان اور پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ سرحد پار حملے روکیں اور اختلافات کو سفارتی ذرائع سے حل کریں۔
روسی صدر ولادیمیر پیوٹن نے بھی ایران کے صدر مسعود پزشکیان سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے سپریم لیڈر کی شہادت کو انسانی اقدار اور بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ روس میں آیت اللہ خامنہ ای کو ایک غیر معمولی مدبر کے طور پر یاد رکھا جائے گا جنہوں نے روس اور ایران کے درمیان جامع اسٹریٹجک شراکت داری کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔
روسی سفارت خانے کے مطابق روس اور پاکستان کے درمیان تعلقات باہمی مفاد پر مبنی ہیں اور دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعاون جاری ہے، جبکہ پاکستان شنگھائی تعاون تنظیم کا مکمل رکن ہے جو خطے کی بڑی علاقائی تنظیموں میں شمار ہوتی ہے۔