
تیل کی ممکنہ قلت کے پیشِ نظر توانائی بچت اقدامات پر غور، چار روزہ ورک ویک اور آن لائن تعلیم کی تجویز
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: اسلام آباد میں پیٹرولیم مصنوعات کی فراہمی کی نگرانی کے لیے قائم خصوصی حکومتی کمیٹی نے جمعرات کو توانائی کے استعمال میں کمی کے مختلف اقدامات پر غور کیا، جن میں چار روزہ ورک ویک، کم اوقاتِ کار اور تعلیمی اداروں کو عارضی طور پر آن لائن نظامِ تعلیم پر منتقل کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔ یہ غور و خوض آبنائے ہرمز میں ممکنہ رکاوٹوں کے باعث تیل کی فراہمی میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورتحال کے پیش نظر کیا گیا۔
کمیٹی کے ارکان کے درمیان اس بات پر اختلاف پایا گیا کہ توانائی بچت کے اقدامات کس حد تک فوری طور پر نافذ کیے جائیں۔ بعض ارکان کا مؤقف تھا کہ سرکاری دفاتر اور تعلیمی اداروں کی جزوی بندش عوام میں تشویش اور پیٹرولیم مصنوعات کی ذخیرہ اندوزی کو بڑھا سکتی ہے، جبکہ دیگر ارکان نے خبردار کیا کہ تاخیر کی صورت میں قومی ایندھن کے ذخائر تیزی سے کم ہو سکتے ہیں۔
وفاقی وزیرِ خزانہ محمد اورنگزیب کی زیرِ صدارت ہونے والے اجلاس میں پیٹرول، ڈیزل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کے استعمال میں کمی کے لیے متعدد تجاویز کا جائزہ لیا گیا۔ عالمی منڈی میں توانائی کی قیمتوں میں اضافے اور سپلائی چین میں رکاوٹوں کے باعث ان مصنوعات کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
اجلاس میں اس بات پر عمومی اتفاق رائے پایا گیا کہ حکومت کے لیے عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی توانائی قیمتوں کا بوجھ مکمل طور پر برداشت کرنا ممکن نہیں ہوگا اور اس کے اثرات بالآخر مقامی صارفین تک منتقل کرنا پڑیں گے۔
کمیٹی کے بیشتر ارکان کا خیال تھا کہ کورونا وبا کے دوران اختیار کیے گئے طرز پر توانائی بچت اقدامات فوری طور پر شروع کیے جائیں، تاہم مارکیٹوں کی مکمل بندش سے گریز کیا جائے۔ دوسری جانب چند ارکان نے خبردار کیا کہ سخت اقدامات سے عوام میں بے چینی پیدا ہو سکتی ہے اور پیٹرولیم مصنوعات کی غیر ضروری خریداری بڑھ سکتی ہے۔
اجلاس میں تقریباً ایک درجن توانائی بچت اقدامات پر غور کیا گیا، جن میں چار روزہ ورک ویک اور سرکاری دفاتر کے اوقات کار میں کمی شامل ہے۔ اسی طرح تعلیمی اداروں کو عارضی طور پر آن لائن نظام تعلیم پر منتقل کرنے کی تجویز بھی زیرِ غور آئی، جیسا کہ کورونا وبا کے دوران کیا گیا تھا۔ تاہم اس مرحلے پر عوامی ٹرانسپورٹ کو بند کرنے کی کوئی سنجیدہ تجویز سامنے نہیں آئی۔
ایک اور تجویز کے مطابق سرکاری اداروں کے ایندھن الاؤنس میں کمی کر کے قومی ذخائر کو محفوظ بنانے کی تجویز بھی زیر غور آئی، جو اس وقت تقریباً 25 دن کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی بتائے جا رہے ہیں۔
اجلاس کے روز ہی وزیراعظم شہباز شریف نے سینئر بیوروکریٹ حامد یعقوب شیخ کو نیا سیکریٹری پیٹرولیم مقرر کیا۔ وہ اس سے قبل سیکریٹری خزانہ اور سیکریٹری صحت کے طور پر خدمات انجام دے چکے ہیں۔
ذرائع کے مطابق کمیٹی کی تجاویز جمعہ کو وزیراعظم کو پیش کی جائیں گی، جس کے بعد انہیں منظوری کے لیے اقتصادی رابطہ کمیٹی (ای سی سی) کے سامنے بھی رکھا جا سکتا ہے۔
ادھر حکومت متبادل راستوں کے ذریعے توانائی کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے سعودی عرب، عمان اور متحدہ عرب امارات کے ساتھ بھی رابطے میں ہے۔ پاکستان اسٹیٹ آئل، پاک عرب ریفائنری کمپنی اور پاکستان ریفائنری لمیٹڈ کے حکام بھی سعودی عرب میں اپنے ہم منصبوں سے ملاقاتیں کرنے والے ہیں تاکہ تیل کے ذخائر کو بڑھایا جا سکے۔
تاہم حکام نے خبردار کیا ہے کہ نئے معاہدوں کے باوجود توانائی کی درآمد معاشی طور پر مہنگی ثابت ہو سکتی ہے۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ ایک ایل این جی کارگو کی قیمت اب تقریباً 70 ملین ڈالر تک پہنچ سکتی ہے، جو جنگ سے قبل تقریباً 30 ملین ڈالر تھی۔
وزارتِ خزانہ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق کمیٹی نے مختلف سپلائی اور قیمتوں کے منظرناموں کا جائزہ لیا تاکہ ممکنہ حالات میں ملکی توانائی کی فراہمی کو مستحکم رکھا جا سکے۔ کمیٹی نے اس امر پر زور دیا کہ توانائی کی عالمی منڈی میں بڑھتی ہوئی مسابقت اور جنگی خطرات پاکستان کے بیرونی کھاتوں پر دباؤ ڈال سکتے ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ ضرورت پڑنے پر ایندھن کے استعمال کو منظم کرنے کے لیے مرحلہ وار اقدامات اختیار کیے جائیں گے، جبکہ عوام میں غیر ضروری خوف و ہراس سے بچنے کے لیے محتاط انداز میں معلومات فراہم کی جائیں گی۔
اجلاس میں اس بات کی بھی یقین دہانی کرائی گئی کہ اس وقت ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر تسلی بخش سطح پر موجود ہیں اور فوری طور پر کسی قسم کی قلت کا خطرہ نہیں۔
دریں اثنا وفاقی حکومت نے صوبائی انتظامیہ کو ہدایت دی ہے کہ پیٹرول پمپس پر ذخیرہ اندوزی اور منافع خوری کی روک تھام کے لیے ڈپٹی کمشنرز کے ذریعے باقاعدہ معائنے کیے جائیں۔ آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے بھی عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ پیٹرولیم مصنوعات کی غیر ضروری خریداری سے گریز کریں۔
اوگرا کے مطابق پاکستان کے پاس اس وقت تقریباً 28 دن کے لیے پیٹرولیم مصنوعات کے ذخائر موجود ہیں، تاہم آبنائے ہرمز میں رکاوٹ کے باعث خام تیل کے دو کارگو کی آمد میں تاخیر ہوئی ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ آئندہ صورتحال کا زیادہ تر انحصار مشرقِ وسطیٰ میں جاری کشیدگی اور اہم بحری راستوں کی دستیابی پر ہوگا۔