انڈونیشیا

انڈونیشیا فیفا سیریز 2026 کے ذریعے عالمی فٹبال میزبانی کی صلاحیت اجاگر کرے گا: ایرک توہیر

Read Time:1 Minute, 45 Second

جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا فٹبال ایسوسی ایشن (پی ایس ایس آئی) کے چیئرمین ایرک توہیر نے کہا ہے کہ جکارتہ میں 27 سے 30 مارچ تک منعقد ہونے والی فیفا سیریز 2026 انڈونیشیا کے لیے بین الاقوامی فٹبال ایونٹس کی میزبانی کی اپنی صلاحیت کو اجاگر کرنے کا ایک اہم موقع فراہم کرے گی۔

انہوں نے کہا کہ فیفا کی جانب سے اس ٹورنامنٹ کی میزبانی سونپے جانے پر ظاہر کیے گئے اعتماد کو بروئے کار لاتے ہوئے انڈونیشین فٹبال کو علاقائی اور عالمی سطح پر فروغ دیا جا سکتا ہے۔

ایرک توہیر کا کہنا تھا، “ہم امید کرتے ہیں کہ گیلوارا بنگ کارنو اسٹیڈیم میں ہونے والی فیفا سیریز نہ صرف قومی ٹیم بلکہ مجموعی طور پر انڈونیشین فٹبال کے لیے ایک مثبت سنگ میل ثابت ہوگی اور ہم اپنی بین الاقوامی مقابلوں کی میزبانی کی صلاحیت کا بھرپور مظاہرہ کر سکیں گے۔”

انہوں نے بتایا کہ اسٹیڈیم اور دیگر سہولیات کی تیاری مکمل کر لی گئی ہے اور یہ ایونٹ پی ایس ایس آئی کی جانب سے ایک پیشہ ور فٹبال نظام کی تشکیل کی وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے، جس میں انفراسٹرکچر، ایونٹ مینجمنٹ اور مقابلہ جاتی نظم و نسق کو بہتر بنانا شامل ہے۔

ایرک توہیر نے اس بات پر بھی زور دیا کہ بیرون ملک کھیلنے والے انڈونیشین کھلاڑیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد فٹبال کے شعبے میں ترقی کی علامت ہے، تاہم قومی ٹیم کی مضبوطی کے لیے ایک مستحکم مقامی لیگ کا ہونا نہایت ضروری ہے۔

فیفا سیریز کے افتتاحی میچ میں 27 مارچ کو انڈونیشیا کا مقابلہ سینٹ کٹس اینڈ نیوس سے گیلوارا بنگ کارنو اسٹیڈیم میں ہوگا، جس سے ملک کی بین الاقوامی معیار کے مقابلوں کی میزبانی کی تیاری کا عملی مظاہرہ متوقع ہے۔

انہوں نے شائقین سے بھرپور شرکت کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ عوام کی بھرپور حمایت انڈونیشیا کی مضبوط فٹبال ثقافت کو مزید اجاگر کرے گی۔

انہوں نے کہا، “ہم امید کرتے ہیں کہ شائقین اسٹیڈیم کا رخ کریں گے، قومی ٹیم کی حوصلہ افزائی کریں گے اور اس پہلی فیفا سیریز کو انڈونیشین فٹبال کے سفر کی ایک مثبت شروعات کے طور پر دیکھیں گے۔”

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
اسلام آباد ممکنہ ایران۔امریکا مذاکرات کا مرکز؟ امریکی قائم مقام سفیر کی واپسی، سفارتی سرگرمیاں تیز Previous post اسلام آباد ممکنہ ایران۔امریکا مذاکرات کا مرکز؟ امریکی قائم مقام سفیر کی واپسی، سفارتی سرگرمیاں تیز
شہباز شریف Next post وزیرِاعظم شہباز شریف کا عالمی یومِ تپ دق پر پیغام، مرض کے خاتمے کو قومی ترجیح قرار