
امریکا ایران سے جامع معاہدہ چاہتا ہے، جنگ بندی برقرار ہے: جے ڈی وینس
واشنگٹن، یورپ ٹوڈے: امریکا کے نائب صدر جے ڈی وینس نے کہا ہے کہ امریکا ایران کے ساتھ مذاکرات جاری رکھے ہوئے ہے اور دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی برقرار ہے، تاہم باہمی عدم اعتماد کے باعث جامع معاہدہ فوری طور پر ممکن نہیں۔
یونیورسٹی آف جارجیا میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نائب صدر نے تصدیق کی کہ ایرانی مذاکرات کار معاہدہ چاہتے ہیں اور موجودہ مرحلے پر پیش رفت کو وہ مثبت سمجھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان طویل عرصے سے موجود عدم اعتماد ایک رات میں ختم نہیں ہوسکتا، تاہم واشنگٹن ایک جامع اور پائیدار معاہدے کے حصول کے لیے سنجیدہ ہے۔
جے ڈی وینس کا کہنا تھا کہ امریکا چاہتا ہے کہ ایسا معاہدہ طے پائے جس کے تحت ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کرے اور ریاستی دہشت گردی سے باز رہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر ایران ایک معمول کا ملک بننے کی سمت پیش رفت کرے تو امریکا بھی اس کے ساتھ اقتصادی طور پر ایک نارمل ریاست جیسا برتاؤ کرے گا۔
انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ گزشتہ تقریباً 49 برسوں میں امریکا اور ایران کے درمیان اس سطح کے مذاکرات نہیں ہوئے۔ ان کے مطابق مجوزہ معاہدہ ایسا ہونا چاہیے جس سے ایرانی عوام عالمی معیشت کا حصہ بن سکیں۔
نائب صدر نے کہا کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایک محدود نہیں بلکہ جامع معاہدے کے خواہاں ہیں جو امریکا سمیت عالمی برادری کے لیے فائدہ مند ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ ایرانی قیادت کو معلوم تھا کہ وہ صدر ٹرمپ کی جانب سے نیک نیتی کے ساتھ مذاکرات کے لیے بھیجے گئے ہیں، تاہم اسی وجہ سے ابھی تک کوئی حتمی معاہدہ طے نہیں پا سکا۔
جے ڈی وینس نے مزید کہا کہ پاکستان کے دورے کے دوران بھی انہوں نے اس بات کا اظہار کیا تھا کہ مذاکرات میں نمایاں پیش رفت ہوئی ہے، تاہم ابھی تک کوئی جامع ڈیل طے نہیں ہو سکی۔