
انڈونیشیا کا 2026 قومی فنی تربیتی پروگرام، 70 ہزار افراد کو ہنر مند بنانے کا ہدف
جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا نے 2026 کے قومی فنی تربیتی پروگرام کے تحت 70 ہزار شرکاء کو شامل کرنے کا ہدف مقرر کیا ہے تاکہ نوجوانوں کو روزگار کے لیے تیار کیا جا سکے اور ان کی مہارتوں کو صنعتی ضروریات سے ہم آہنگ بنایا جا سکے۔
انڈونیشیا کے وزیر محنت یاسیرلی نے پیر کے روز جاری بیان میں کہا کہ یہ پروگرام صنعت کی ضروریات کے مطابق ترتیب دیا گیا ہے، جس کا مقصد شرکاء کی مہارتوں کو بہتر بنا کر انہیں لیبر مارکیٹ میں شامل ہونے کے قابل بنانا ہے۔
انہوں نے بتایا کہ اس وقت ملک بھر میں 10,405 تربیت یافتہ افراد اس پروگرام میں شامل ہیں، جو 21 سرکاری فنی تربیتی مراکز (BLK)، ڈائریکٹوریٹ جنرل آف ووکیشنل ٹریننگ اینڈ پروڈکٹیوٹی ڈیولپمنٹ کے تحت 13 تربیتی یونٹس، اور 46 مقامی سطح پر چلنے والے مراکز (BLK UPTD) میں تربیت حاصل کر رہے ہیں۔
مغربی جاوا کے شہر بانڈونگ میں قائم سینٹر فار ووکیشنل اینڈ پروڈکٹیوٹی ٹریننگ ڈیولپمنٹ (BBPVP) میں 2026 کے پہلے بیچ میں 512 شرکاء کو داخلہ دیا گیا ہے، جہاں انہیں مارکیٹ کی ضروریات کے مطابق تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔
تربیتی پروگراموں میں فورک لفٹ آپریشن، باریستا اسکلز، بیکری و پیسٹری تیاری، اور کمپیوٹر ایڈیڈ ڈیزائن (CAD) ٹیکنالوجی کے ذریعے تھری ڈی ڈیزائن شامل ہیں، جبکہ شرکاء کو اسمارٹ بلڈنگ سسٹمز کی تربیت کے ذریعے عملی اور تکنیکی مہارتیں بھی فراہم کی جا رہی ہیں۔
حکام کے مطابق بانڈونگ کے بی بی پی وی پی مرکز میں جدید سہولیات، انفراسٹرکچر اور ماہر انسٹرکٹرز فراہم کیے گئے ہیں تاکہ صنعت پر مبنی تربیتی پروگرام مؤثر انداز میں جاری رکھے جا سکیں۔
پروگرام کے تحت شرکاء کو مفت تربیت، کھانے، سفری سہولت، حادثاتی و زندگی بیمہ، اور قومی پیشہ ورانہ سرٹیفکیشن ایجنسی (BNSP) کی جانب سے جاری کردہ سرٹیفکیٹس فراہم کیے جاتے ہیں، جبکہ بعض اسکیموں کے تحت رہائش کی سہولت بھی دی جاتی ہے۔
وزیر محنت نے کہا کہ اس پروگرام میں ہائر سیکنڈری اور ووکیشنل اسکول کے فارغ التحصیل طلبہ کو ترجیح دی جا رہی ہے اور اسے مکمل طور پر حکومتی بجٹ سے مالی معاونت حاصل ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس اقدام کا مقصد نہ صرف افراد کو ہنر مند بنانا ہے بلکہ انہیں صنعتی شعبے میں مؤثر کردار ادا کرنے کے قابل بھی بنانا ہے۔