
آہٹوں کے شہر سے واپس کوئی آتا نہ تھا
Read Time:27 Second
آہٹوں کے شہر سے واپس کوئی آتا نہ تھا
اس نگر میں ایک بھی تو راستہ ایسا نہ تھا
اک شناسائی نے اندر کی اکائی توڑ دی
مجھ سے میرا فاصلہ پہلے کبھی اتنا نہ تھا
پھر پھرا کے اڑ گئی کیوں پیڑ سے چڑیوں کی ڈار
ٹہنیوں پر سانپ کا پھن تو ابھی ابھرا نہ تھا
کچھ ہوا کی شدتیں گرنے کا باعث ہوگئیں
کچھ مری جڑ نے زمیں کو زور سے پکڑا نہ تھا
کس طرح رفعت بھلا میں اس کے اندر جھانکتی
اس نے کوئی چور دروازہ کھلا رکھا نہ تھا