
انڈونیشیا اور ازبکستان کے درمیان براہِ راست پروازوں کی تجویز، مذہبی سیاحت اور حلال صنعت میں تعاون بڑھانے پر زور
جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کی عوامی مشاورتی اسمبلی (MPR) کے اسپیکر احمد مزانی نے انڈونیشیا اور ازبکستان کے درمیان براہِ راست فضائی پروازیں شروع کرنے کی تجویز پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس اقدام سے مذہبی سیاحت کو فروغ ملے گا اور دونوں مسلم اکثریتی ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔
مقامی وقت کے مطابق پیر کو ازبکستان میں اولی مجلس (پارلیمان) کی سینیٹ کی چیئرپرسن تنزیلہ نربایوا سے ملاقات کے دوران احمد مزانی نے اس تجویز پر تبادلہ خیال کیا۔ جکارتہ میں جاری ایک تحریری بیان کے مطابق انہوں نے کہا کہ براہِ راست پروازوں کے آغاز سے انڈونیشی شہریوں کے لیے ازبکستان میں عظیم محدث امام بخاریؒ کے مزار کی زیارت کے بعد عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب روانہ ہونا زیادہ آسان ہو جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ ازبکستان کی مذہبی سیاحت انڈونیشیا کے ان زائرین کے لیے خصوصی کشش رکھتی ہے جو مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں عمرہ ادا کرنے سے قبل امام بخاریؒ کے مزار پر حاضری دینا چاہتے ہیں، اس لیے ازبکستان کو مذہبی سفر کے ایک اہم ٹرانزٹ مرکز کے طور پر فروغ دیا جا سکتا ہے۔
ملاقات کے دوران دونوں رہنماؤں نے حلال صنعت میں تعاون کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا۔ احمد مزانی نے کہا کہ دونوں ممالک مسلم اکثریتی ہونے کے باعث اس شعبے کو مشترکہ طور پر فروغ دینے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ حلال صنعت اب صرف مذہبی ضروریات تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ ایک تیزی سے ترقی کرنے والا عالمی اقتصادی شعبہ بن چکی ہے۔ ان کے مطابق دنیا بھر میں مسلم آبادی مسلسل بڑھ رہی ہے اور اندازہ ہے کہ 2030 تک یہ عالمی آبادی کا تقریباً 30 فیصد ہو جائے گی، جس کے باعث شریعت کے مطابق مصنوعات کی طلب میں نمایاں اضافہ ہوگا۔
احمد مزانی نے امید ظاہر کی کہ انڈونیشیا اور ازبکستان حلال صنعت کی ترقی کے لیے باہمی مفاد پر مبنی تعاون کو مزید وسعت دیں گے۔
انہوں نے دونوں ممالک کے درمیان دیرینہ تاریخی تعلقات کا بھی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ انڈونیشیا کے پہلے صدر سوئیکارنو کی امام بخاریؒ کے مزار کی زیارت کی خواہش نے دونوں ممالک کے تعلقات کو نئی جہت دی تھی، اور اسی وقت سے انڈونیشیا اور ازبکستان کے درمیان دوستی اور دوطرفہ تعاون مسلسل فروغ پا رہا ہے۔
انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ دونوں ممالک کے تعلقات مستقبل میں اقتصادی، سیاحتی اور بین الپارلیمانی شعبوں میں مزید مستحکم ہوں گے۔