
ویتنام اگست میں جنوب مشرقی ایشیا کی دوسری بڑی کمرشل ایوی ایشن مارکیٹ بن گیا
ہنوئی، یورپ ٹوڈے: ویتنام نے دستیاب فضائی نشستوں کے اعتبار سے تھائی لینڈ کو پیچھے چھوڑتے ہوئے اگست میں جنوب مشرقی ایشیا کی دوسری بڑی کمرشل ایوی ایشن مارکیٹ کا اعزاز حاصل کر لیا ہے۔
عالمی ہوا بازی کے اعداد و شمار اور تجزیاتی خدمات فراہم کرنے والے ادارے OAG کے مطابق، ویتنام میں اگست کے دوران 7.3 ملین فضائی نشستیں دستیاب رہیں، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 10 فیصد زیادہ ہیں۔ یہ خطے کی ان ہوا بازی مارکیٹوں میں سب سے تیز سالانہ ترقی ہے جن کا OAG نے تجزیہ کیا۔
OAG کے مطابق ویتنام میں فضائی سفر کی بڑھتی ہوئی طلب، مختلف علاقوں کو خدمات فراہم کرنے والے متعدد بڑے ہوائی اڈوں کی موجودگی اور سیاحت کے شعبے اور ایئرلائنز کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون مارکیٹ کی توسیع کے اہم عوامل ہیں۔
ویتنام کی ٹور آپریٹر کمپنیاں اکثر بڑی تعداد میں نشستیں پیشگی مختص کراتی ہیں اور ایئرلائنز کے ساتھ مشترکہ تشہیری و مارکیٹنگ مہمات چلاتی ہیں، جس سے پروازوں میں نشستیں زیادہ مؤثر انداز میں پُر کرنے میں مدد ملتی ہے۔
نئی بین الاقوامی منزلوں کا اضافہ بھی ویتنام کے فضائی رابطوں کے فروغ کے لیے اضافی مواقع پیدا کر رہا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق تھائی لینڈ 7.2 ملین دستیاب نشستوں کے ساتھ خطے میں تیسرے نمبر پر رہا، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 1.7 فیصد کمی ظاہر کرتا ہے۔
OAG کی اگست کی Southeast Asia Aviation Market Briefing کے مطابق، انڈونیشیا 11 ملین نشستوں کے ساتھ جنوب مشرقی ایشیا کی سب سے بڑی ہوا بازی مارکیٹ کی حیثیت برقرار رکھنے میں کامیاب رہا، تاہم اس کی گنجائش میں سالانہ بنیاد پر 4.3 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ملائیشیا اور فلپائن کی فضائی گنجائش میں کمی ہوئی۔ ملائیشیا میں 5.4 ملین اور فلپائن میں 4.8 ملین نشستیں دستیاب رہیں، جو بالترتیب 6.4 فیصد اور 5.7 فیصد کمی ظاہر کرتی ہیں۔
جنوب مشرقی ایشیا میں مجموعی ایئرلائن گنجائش اگست میں سالانہ بنیاد پر 0.8 فیصد اضافے کے ساتھ 51 ملین نشستوں تک پہنچ گئی۔ ملکی پروازوں کی گنجائش میں 1.4 فیصد اضافہ ہوا اور یہ خطے کی مجموعی کمرشل ایوی ایشن مارکیٹ کا 45 فیصد رہی۔
بین الاقوامی پروازوں کی گنجائش تقریباً مستحکم رہی اور 0.4 فیصد اضافے کے ساتھ 28.2 ملین نشستوں تک پہنچ گئی، جو خطے کی کمرشل ایوی ایشن مارکیٹ کا 55 فیصد بنتی ہے۔
ویتنام میں ہوائی مسافروں کی تعداد میں مسلسل اضافے کے باعث فضائی گنجائش میں توسیع ہوئی ہے۔ سول ایوی ایشن اتھارٹی آف ویتنام (CAAV) کے مطابق، رواں سال جنوری سے جولائی کے دوران ملک کے ہوائی اڈوں سے 76 ملین سے زائد مسافروں نے سفر کیا، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 7 فیصد زیادہ ہے۔
بین الاقوامی فضائی سفر اس اضافے کا سب سے اہم محرک رہا، جس کے تحت تقریباً 30 ملین مسافروں نے بین الاقوامی سفر کیا، جو سالانہ بنیاد پر 11 فیصد سے زائد اضافہ ہے۔ یہ شرح ملکی مسافر ٹریفک میں ریکارڈ ہونے والی شرح نمو سے تقریباً تین گنا زیادہ ہے۔
اس دوران ملکی فضائی مسافروں کی تعداد 46 ملین سے تجاوز کر گئی، جس میں 4 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ویتنامی ایئرلائنز نے سال کے پہلے سات ماہ کے دوران تقریباً 35 ملین مسافروں کو سفری سہولت فراہم کی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 3 فیصد سے زائد اضافہ ہے۔ ان میں بین الاقوامی مسافروں کی تعداد 11 ملین سے زائد رہی، جس میں ایک فیصد اضافہ ہوا، جبکہ ملکی مسافروں کی تعداد 23 ملین سے تجاوز کر گئی اور اس میں 4 فیصد سے زائد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
CAAV کے مطابق، ویتنام کا ہوا بازی کا شعبہ 2026 میں تقریباً 94 ملین مسافروں اور 1.6 ملین ٹن کارگو کی ہینڈلنگ کی توقع کر رہا ہے، جو بالترتیب 13 فیصد اور 9.3 فیصد سالانہ اضافے کے برابر ہے۔
ان اہداف کے حصول کے لیے ہوا بازی کے حکام رن وے شیڈولنگ کو بہتر بنانے، ہوائی اڈوں کی آپریشنل کارکردگی میں اضافہ کرنے اور ایئرلائن آپریشنز کی نگرانی مزید مؤثر بنانے کے اقدامات کر رہے ہیں تاکہ ہوا بازی کے تحفظ کے اعلیٰ معیار کو برقرار رکھا جا سکے۔
حکام عروج کے سفری ادوار کے دوران ایئرلائنز کو اپنے بیڑے میں توسیع اور پروازوں کی گنجائش بڑھانے میں بھی معاونت فراہم کریں گے۔
CAAV غیر ملکی ہوا بازی کے حکام کے ساتھ تعاون جاری رکھتے ہوئے مزید بین الاقوامی فضائی روٹس کھولنے میں سہولت فراہم کرے گی، جبکہ عالمی اقتصادی صورتحال، جغرافیائی و سیاسی پیش رفت اور ایندھن کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ سمیت ان عوامل کی بھی نگرانی کی جائے گی جو ہوا بازی کے شعبے کو متاثر کر سکتے ہیں۔
ہوائی اڈوں کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی بھی حکام کی اہم ترجیحات میں شامل ہے۔ بڑے ہوائی اڈوں کی منصوبہ بندی اور تعمیراتی منصوبوں میں تیزی لائی جا رہی ہے، جبکہ اپ گریڈیشن کے بعد لین کھونگ ایئرپورٹ اور کاما ایئرپورٹ کو دوبارہ فعال کرنے کی تیاریاں بھی جاری ہیں۔
اس کے علاوہ مستقبل میں لانگ تھان انٹرنیشنل ایئرپورٹ اور کوانگ تری ایئرپورٹ کے آپریشنز کے لیے بھی تیاریاں تیزی سے جاری ہیں۔ ان منصوبوں سے ویتنام کی طویل مدتی فضائی گنجائش میں نمایاں اضافہ متوقع ہے، جس سے ملک کی کمرشل ایوی ایشن مارکیٹ کی مسلسل ترقی اور بین الاقوامی فضائی رابطوں کے فروغ میں مدد ملے گی۔