
خیبرپختونخوا کے لیے 160 ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کا خیرمقدم، امن، روزگار اور خوشحالی کی نئی امیدیں
پشاور، یورپ ٹوڈے: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی جانب سے خیبرپختونخوا کے لیے اعلان کردہ 160 ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کا مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد، قبائلی عمائدین اور سیاسی نمائندوں نے خیرمقدم کرتے ہوئے اسے صوبے میں ترقیاتی عمل تیز کرنے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور خوشحالی کے نئے دور کے آغاز کے لیے اہم اقدام قرار دیا ہے۔
وزیراعظم نے یہ پیکیج ان 12 اضلاع کی ایریا ڈویلپمنٹ کونسل کے نمائندوں سے ملاقات کے دوران اعلان کیا جہاں ہنگامی حالت نافذ کی گئی ہے۔ اس اعلان سے بالخصوص ضم شدہ قبائلی اضلاع اور دہشت گردی سے متاثرہ دیگر علاقوں کے عوام میں ترقی، معاشی استحکام اور بہتر بنیادی سہولیات کی فراہمی کے حوالے سے نئی توقعات پیدا ہوئی ہیں۔
قبائلی نمائندوں، سیاسی رہنماؤں اور شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ اقدام ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خیبرپختونخوا دہشت گردی، بے روزگاری، غربت، کمزور بنیادی ڈھانچے اور عوامی خدمات کی ناکافی فراہمی جیسے سنگین مسائل کا سامنا کر رہا ہے۔
48 رکنی ایریا ڈویلپمنٹ کونسل کے چیئرمین اور خیبرپختونخوا کے سابق گورنر حاجی شوکت اللہ نے وزیراعظم کے 160 ارب روپے کے پیکیج کو تاریخی اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے صوبے کے پسماندہ علاقوں میں معاشی سرگرمیوں اور ترقیاتی منصوبوں کو نئی تقویت مل سکتی ہے۔
انہوں نے امید ظاہر کی کہ وفاقی حکومت کی معاونت کے ساتھ انتظامی اور سکیورٹی انتظامات میں بہتری سے امن کی بحالی، سرمایہ کاری کے فروغ اور معاشی سرگرمیوں کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے میں مدد ملے گی۔
قبائلی عمائدین اور ملکوں نے 12 شورش زدہ اضلاع میں ہنگامی حالت کے نفاذ اور صوبے میں گورنر راج کے اقدامات کا بھی خیرمقدم کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عوام کو درپیش سکیورٹی اور انتظامی چیلنجز سے مؤثر انداز میں نمٹنے کے لیے غیرمعمولی آئینی اقدامات ضروری ہیں۔
انہوں نے دہشت گردی کے خاتمے اور خیبرپختونخوا کو پرامن اور معاشی طور پر مستحکم صوبہ بنانے کی کوششوں میں وفاقی حکومت کو مکمل تعاون کی یقین دہانی کرائی۔
حاجی شوکت اللہ نے کہا کہ گزشتہ چند ماہ کے دوران قبائلی اضلاع میں دہشت گردی کی شدید لہر نے امن و امان، تعلیم، صحت، کاروبار اور سماجی و معاشی سرگرمیوں کو بری طرح متاثر کیا ہے۔ ان کے مطابق قبائلی عوام نے ہمیشہ پاکستان کا ساتھ دیا اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے مثال قربانیاں پیش کی ہیں۔
انہوں نے کہا کہ قبائلی عوام نے گہرے زخم برداشت کیے ہیں، تاہم پاکستان کے ساتھ ان کی وابستگی اور وفاداری میں کبھی کمی نہیں آئی۔ ان کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے قبائلی عمائدین کی قربانیوں اور ملک کے ساتھ ان کے مضبوط تعلق کا اعتراف کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ قبائلی اضلاع معدنیات اور دیگر قدرتی وسائل سے مالا مال ہیں، جبکہ وہاں کی آب و ہوا اور جغرافیائی حالات زیتون کی کاشت، لائیو اسٹاک اور دیگر زرعی سرگرمیوں کے لیے بھی نمایاں امکانات فراہم کرتے ہیں۔
حاجی شوکت اللہ کے مطابق ان شعبوں میں مناسب سرمایہ کاری سے مقامی نوجوانوں کے لیے ہزاروں روزگار کے مواقع پیدا کیے جا سکتے ہیں، غربت میں کمی لائی جا سکتی ہے اور طویل عرصے سے بدامنی کا شکار آبادی کو آمدن کے پائیدار ذرائع فراہم کیے جا سکتے ہیں۔
انہوں نے صوبے میں گندم کے آٹے کی قلت دور کرنے کے وفاقی حکومت کے عزم کو بھی سراہتے ہوئے کہا کہ ضروری اشیائے خورونوش کی مناسب قیمتوں پر دستیابی یقینی بنانا عوامی ریلیف کے لیے اہم ہے۔ انہوں نے مصنوعی ذخیرہ اندوزی اور ناجائز منافع خوری میں ملوث عناصر کے خلاف سخت کارروائی اور مؤثر انتظامی اقدامات پر زور دیا۔
حاجی شوکت اللہ نے امید ظاہر کی کہ نئے ترقیاتی اقدامات سے قبائلی آبادی میں طویل عرصے سے پائے جانے والے احساس محرومی میں کمی آئے گی اور امن، معاشی مواقع اور خوشحالی کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔
بے روزگاری اور تعلیم کے چیلنجز
خیبرپختونخوا میں ترقیاتی ضروریات کی سنگینی کا اندازہ لیبر مارکیٹ کے اعدادوشمار سے بھی لگایا جا سکتا ہے، جن کے مطابق صوبے میں روزگار کے مواقع پیدا کرنے پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
لیبر فورس سروے 2024-25 کے مطابق خیبرپختونخوا میں بے روزگاری کی شرح 9.6 فیصد ریکارڈ کی گئی، جو ملک کے دیگر صوبوں کے مقابلے میں بلند ترین ہے۔ اس کے مقابلے میں پنجاب میں بے روزگاری کی شرح 7.3 فیصد، بلوچستان میں 5.5 فیصد اور سندھ میں 5.1 فیصد رہی۔
یہ اعدادوشمار بالخصوص نوجوانوں کے لیے پیداواری اور باعزت روزگار کے مواقع پیدا کرنے کی ضرورت کو اجاگر کرتے ہیں، کیونکہ نوجوان صوبے کی آبادی کا ایک بڑا حصہ ہیں۔
ماہرین کے مطابق تعلیم، بنیادی ڈھانچے، صنعت، سیاحت، زراعت، معدنیات، انفارمیشن ٹیکنالوجی اور چھوٹے و درمیانے درجے کے کاروباروں میں سرمایہ کاری سے افرادی قوت کو روزگار فراہم کرنے کے ساتھ صوبائی معیشت کو بھی مستحکم کیا جا سکتا ہے۔
سابق رکن قومی اسمبلی شاہ جی گل آفریدی نے وزیراعظم کے ترقیاتی پیکیج کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لیے حکومت کا پختہ عزم بھی صوبے کے مستقبل کے لیے انتہائی اہم ہے۔
انہوں نے کہا کہ تمام آٹھ ضم شدہ قبائلی اضلاع کے علاوہ ڈیرہ اسماعیل خان، بنوں، لکی مروت اور ٹانک بھی دہشت گردی سے شدید متاثر ہوئے ہیں، جس کے نتیجے میں معمولات زندگی متاثر اور ترقیاتی سرگرمیاں محدود ہوئی ہیں۔
شاہ جی گل آفریدی نے صوبے میں بگڑتی ہوئی سکیورٹی صورتحال پر پاکستان تحریک انصاف کی قیادت کے مؤقف پر سوالات اٹھاتے ہوئے کہا کہ امن و امان کی بحالی ترقی کے لیے بنیادی شرط ہے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ خیبرپختونخوا میں دہشت گرد حملوں کے دوران شہریوں اور پولیس اہلکاروں کی جانیں ضائع ہو رہی ہیں، جبکہ وزیراعلیٰ سہیل آفریدی سیاسی سرگرمیوں میں مصروف ہیں۔ انہوں نے مزید الزام عائد کیا کہ پی ٹی آئی کی سابق صوبائی حکومت دہشت گردی کے خاتمے، محکمہ انسداد دہشت گردی (سی ٹی ڈی) کو مضبوط بنانے اور پولیس کی استعداد کار بڑھانے میں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکی، حالانکہ ان کے بقول قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) ایوارڈ کے تحت انسداد دہشت گردی کے لیے صوبے کو تقریباً 800 ارب روپے موصول ہوئے۔
شاہ جی گل آفریدی نے سی ٹی ڈی کو مزید مؤثر بنانے اور خیبرپختونخوا میں سیف سٹی منصوبوں کو ترجیحی بنیادوں پر مکمل کرنے سے متعلق وزیراعظم کی ہدایات کا خیرمقدم کیا۔ انہوں نے دہشت گردی کے خاتمے اور ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں حائل رکاوٹیں دور کرنے کے لیے وفاقی حکومت کی جانب سے ضروری وسائل فراہم کرنے کی یقین دہانی کو بھی اہم قرار دیا۔
انہوں نے ضم شدہ اضلاع میں ترقیاتی امور اور فوری انصاف کی فراہمی کے لیے قبائلی کونسل کو بااختیار بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
تعلیم کے شعبے کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ صوبے کو درپیش بڑے چیلنجز میں اسکولوں سے باہر بچوں کی بڑی تعداد بھی شامل ہے۔ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) اور تعلیم سے متعلق دیگر جائزوں کے حوالے سے پیش کیے گئے اعدادوشمار کے مطابق خیبرپختونخوا میں لاکھوں بچے، بالخصوص لڑکیاں اور دور دراز و معاشی طور پر پسماندہ اضلاع کے بچے، رسمی تعلیمی نظام سے باہر ہیں۔
دور افتادہ علاقوں میں غربت، تعلیمی اداروں کی کمی، دشوار گزار راستوں اور سماجی رکاوٹوں کے باعث بچوں کی تعلیم تک رسائی متاثر ہو رہی ہے۔ ماہرین کے مطابق تعلیمی محرومی انسانی ترقی، سماجی استحکام اور معاشی نمو پر طویل مدتی منفی اثرات مرتب کر سکتی ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ ترقیاتی پیکیج میں اسکولوں کی تعمیر و بہتری، فنی تربیت، لڑکیوں کی تعلیم اور روزگار سے منسلک مہارتوں کی فراہمی کو خصوصی اہمیت دی جانی چاہیے تاکہ نوجوان صوبے کی معاشی ترقی میں مؤثر کردار ادا کر سکیں۔
سرکاری جامعات کی مالی مشکلات
خیبرپختونخوا کے تعلیمی شعبے کو درپیش مسائل سرکاری جامعات کی مالی صورتحال سے بھی ظاہر ہوتے ہیں۔ صوبے میں پی ٹی آئی کے تقریباً 13 سالہ دور حکومت کے دوران اعلیٰ تعلیم کے شعبے میں سرمایہ کاری اور مالی انتظام کے حوالے سے متعدد چیلنجز سامنے آئے، جبکہ کئی سرکاری جامعات مالی مشکلات کا شکار رہیں۔
گورنر سیکریٹریٹ کی جانب سے 2021 سے 2024 کے دوران صوبے کی جامعات کے مالی معاملات کے تجزیے کے مطابق جامعات نے 2021 میں 4 ارب 11 کروڑ 30 لاکھ روپے اور 2022 میں 3 ارب 93 کروڑ 80 لاکھ روپے کا سرپلس ریکارڈ کیا، تاہم 2023-24 کے لیے متوقع سرپلس کم ہو کر 54 کروڑ 50 لاکھ روپے رہ گیا۔
تجزیے میں اس کمی کی بڑی وجوہات میں ضرورت سے زیادہ بھرتیاں، مہنگائی اور کمزور مالیاتی انتظام کو شامل کیا گیا۔ اصلاحاتی اقدامات کے باوجود جامعات کی آمدن میں معمولی اضافہ ہوا، جبکہ وفاقی حکومت کی جانب سے خیبرپختونخوا کی سرکاری جامعات کے لیے گرانٹس میں بتدریج اضافہ ہوا اور 2023 میں یہ رقم 10 ارب 95 کروڑ 40 لاکھ روپے تک پہنچ گئی۔
ان گرانٹس کا مقصد جامعات کے بنیادی ڈھانچے، تحقیق، اساتذہ کی پیشہ ورانہ ترقی اور طلبہ کی معاونت کو بہتر بنانا تھا۔ اعدادوشمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ اعلیٰ تعلیم کے نظام کو مستحکم کرنے کے لیے مسلسل سرمایہ کاری، بہتر مالیاتی انتظام اور ادارہ جاتی اصلاحات ضروری ہیں۔
نامکمل ترقیاتی منصوبے اور شفافیت کی ضرورت
صوبے میں کئی نامکمل ترقیاتی منصوبے بھی منصوبہ بندی، عمل درآمد اور نگرانی کے نظام کو مؤثر بنانے کی ضرورت اجاگر کرتے ہیں۔
پشاور کا ارباب نیاز انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم بھاری اخراجات اور تعمیراتی لاگت میں اضافے کے باوجود تاحال مکمل نہیں ہو سکا۔ اسی طرح سوات کے کالام اسپورٹس اسٹیڈیم پر کام بھی شروع نہیں ہو سکا، جو ترقیاتی منصوبوں کی منصوبہ بندی اور عملی تکمیل کے درمیان موجود خلا کی نشاندہی کرتا ہے۔
سیاسی نمائندوں اور سول سوسائٹی کے ارکان کا کہنا ہے کہ 160 ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج کی کامیابی کا انحصار صرف فنڈز مختص کرنے پر نہیں ہوگا بلکہ ان کے شفاف استعمال، منصوبوں کی بروقت تکمیل اور مؤثر نگرانی کو بھی یقینی بنانا ہوگا۔
شاہ جی گل آفریدی نے کہا کہ دہشت گردی سے متعلق چیلنجز اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے وفاقی تعاون کی وزیراعظم کی یقین دہانی سے متاثرہ اضلاع کے عوام میں امید پیدا ہوئی ہے۔ ان کے مطابق صوبے کو ایک جامع حکمت عملی کی ضرورت ہے جس میں سکیورٹی، بنیادی ڈھانچے کی ترقی، تعلیم، روزگار اور سرمایہ کاری کو یکجا کیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ امن اور ترقی ایک دوسرے سے منسلک ہیں۔ امن کے بغیر سرمایہ کاری فروغ نہیں پا سکتی اور معاشی مواقع کے بغیر پائیدار امن کو یقینی بنانا مشکل ہے۔
سابق صوبائی وزیر واجد علی خان نے بھی وزیراعظم کے ترقیاتی پیکیج کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ اس سے خیبرپختونخوا کے عوام کی زندگیوں میں مثبت تبدیلی لانے میں مدد مل سکتی ہے۔
انہوں نے سابق پی ٹی آئی صوبائی حکومت کے دور میں بدانتظامی اور کرپشن کے الزامات عائد کرتے ہوئے کہا کہ ان عوامل نے اداروں کو کمزور کیا، سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کی اور ترقیاتی عمل کو سست کیا۔ انہوں نے پینے کے پانی کے منصوبوں میں 100 ارب روپے کی مبینہ بے ضابطگیوں اور کوہستان میں 37 ارب روپے کے مبینہ کرپشن اسکینڈل کا حوالہ دیتے ہوئے عوامی فنڈز کے استعمال میں شفافیت اور احتساب یقینی بنانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے یہ الزام بھی عائد کیا کہ بعض ٹھیکے من پسند افراد کو دیے گئے۔
ترقیاتی پیکیج سے خوشحالی کی امیدیں
160 ارب روپے کے ترقیاتی پیکیج سے یہ توقعات وابستہ کی جا رہی ہیں کہ خیبرپختونخوا بدامنی اور پسماندگی کے مسلسل چیلنجز سے نکل کر پائیدار معاشی ترقی کی جانب پیش رفت کر سکے گا۔
ضم شدہ قبائلی اضلاع کے عوام کے لیے یہ پیکیج خصوصی اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ وہ برسوں کے تنازعات اور محرومیوں کے بعد بہتر سڑکوں، اسکولوں، اسپتالوں، روزگار، کاروباری منڈیوں اور فوری انصاف کی فراہمی کے منتظر ہیں۔
صوبے کے وسیع معدنی وسائل، سیاحتی مقامات، زرعی پیداوار، لائیو اسٹاک اور نوجوان افرادی قوت میں معاشی تبدیلی کی نمایاں صلاحیت موجود ہے۔ تاہم اس صلاحیت سے بھرپور فائدہ اٹھانے کے لیے امن و امان، بنیادی سہولیات اور مؤثر طرز حکمرانی کو یقینی بنانا ضروری ہوگا۔
عام شہریوں کے لیے ترقیاتی اقدامات کی اصل کامیابی اس وقت سامنے آئے گی جب خالی عمارتوں کی جگہ فعال اسکول، رکے ہوئے منصوبوں کی جگہ مکمل سڑکیں، مریضوں کے علاج کے لیے ضروری سہولیات سے آراستہ اسپتال، بجلی اور پانی کی قابل اعتماد فراہمی اور نوجوانوں کے لیے ایسے روزگار کے مواقع میسر ہوں گے جو انہیں اپنے ہی علاقوں میں بہتر مستقبل بنانے کے قابل بنائیں۔
وزیراعظم کا 160 ارب روپے کا ترقیاتی پیکیج اسی تناظر میں محض مالی وسائل کی فراہمی نہیں بلکہ خیبرپختونخوا کے لاکھوں عوام کی امن، ترقی اور خوشحالی سے وابستہ توقعات پوری کرنے کا ایک اہم موقع قرار دیا جا رہا ہے۔
پیکیج پر مؤثر عمل درآمد، امن کی بحالی اور بہتر طرز حکمرانی کے ذریعے صوبے کے انسانی اور قدرتی وسائل کو پائیدار معاشی ترقی کا ذریعہ بنایا جا سکتا ہے، جس سے خیبرپختونخوا میں ترقی اور خوشحالی کے نئے دور کی راہ ہموار ہونے کی توقع ہے۔