بیلجیم میں بے روزگاری الاؤنس لینے والوں کی تعداد میں نمایاں کمی، برسلز میں 50.5 فیصد کمی ریکارڈ؛ سماجی امداد کے خواہشمند افراد میں اضافہ

بیلجیم میں بے روزگاری الاؤنس لینے والوں کی تعداد میں نمایاں کمی، برسلز میں 50.5 فیصد کمی ریکارڈ؛ سماجی امداد کے خواہشمند افراد میں اضافہ

Read Time:2 Minute, 12 Second

برسلز، یورپ ٹوڈے: بیلجیم کے قومی دفتر برائے روزگار (ONEM-RVA) کے مطابق رواں سال ستمبر میں برسلز میں بے روزگاری الاؤنس حاصل کرنے والے افراد کی تعداد میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 50.5 فیصد کمی واقع ہوئی ہے، جو ملک بھر میں سب سے زیادہ کمی ہے۔

مجموعی طور پر بیلجیم میں گزشتہ سال ستمبر کے مقابلے میں بے روزگاری الاؤنس لینے والوں کی تعداد میں 38 فیصد کمی دیکھی گئی۔ یہ کمی وفاقی حکومت کی جانب سے بے روزگاری الاؤنس کی مدت پر پہلی بار دو سال کی حد مقرر کیے جانے کے بعد سامنے آئی ہے۔

اعداد و شمار کے مطابق ستمبر میں ملک بھر میں ایک لاکھ 80 ہزار ملازمت کے متلاشی افراد نے بے روزگاری الاؤنس حاصل کیا، جو ایک سال قبل کے مقابلے میں ایک لاکھ 10 ہزار کم ہے۔ تمام علاقوں اور عمر کے تمام گروپوں میں الاؤنس لینے والوں کی تعداد میں کمی ریکارڈ کی گئی، جن میں والونیا میں 45 فیصد اور فلینڈرز میں 22.8 فیصد کمی شامل ہے۔ تاہم ایک سال سے کم مدت کے لیے مکمل بے روزگاری الاؤنس حاصل کرنے والوں کی تعداد میں 0.3 فیصد اضافہ ہوا ہے۔

الاؤنس لینے والوں کی تعداد میں کمی سے، توقعات کے مطابق، بے روزگاری کی مد میں وفاقی اخراجات میں تو کمی آئی ہے، تاہم عوامی سماجی بہبود کے مراکز (CPAS) کے ذریعے سماجی امداد حاصل کرنے والے بیلجیم کے شہریوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

اکتوبر میں بیلجیم کی تاریخ میں پہلی بار CPAS سے امداد لینے والوں کی تعداد بے روزگاری الاؤنس حاصل کرنے والوں سے تجاوز کر گئی۔ بے روزگاری الاؤنس سے محروم ہونے والوں میں سے تقریباً 43 فیصد افراد نے CPAS کی سماجی امداد کا رخ کیا، جو وزیرِ روزگار ڈیوڈ کلیرینوال (MR) کے ایک تہائی کے اندازے سے زیادہ ہے۔

CPAS امداد کی بڑھتی ہوئی طلب بلدیاتی اداروں کے مالی وسائل پر پہلے سے موجود دباؤ میں مزید اضافہ کر رہی ہے، جس کے باعث متعدد بلدیات خسارہ پورا کرنے کے لیے ٹیکسوں میں اضافے پر مجبور ہو گئی ہیں۔

دوسری جانب بیلجیم کی آئینی عدالت نے حال ہی میں اپنے ایک فیصلے میں قرار دیا ہے کہ وفاقی حکومت کی جانب سے الاؤنس پر عائد کردہ حد امتیازی ہے، کیونکہ اس کے تحت طویل ترین عرصے سے بے روزگاری الاؤنس لینے والوں کو الاؤنس سے منتقلی کے لیے کم مدت کے بے روزگار افراد کے مقابلے میں کم وقت دیا گیا۔ عدالتی فیصلے کے نتیجے میں طویل عرصے سے الاؤنس حاصل کرنے والوں کے لیے موجودہ عبوری انتظامات اس وقت تک عملاً منسوخ ہو گئے ہیں جب تک وفاقی حکومت نئی پالیسی متعارف نہیں کراتی۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
سعودی عرب Previous post سعودی کابینہ کا اجلاس: قطر اور پاکستان کی ثالثی و امن کوششوں کی بھرپور حمایت کا اعادہ، حوثی حملوں کی مذمت
پاکستان Next post آذربائیجان اور پاکستان کا قانون و انصاف کے شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق، سفیر عرفان داؤدوف کی وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ سے ملاقات