
پاک چین دوستی کی نئی مثال: پہلا پاکستانی خلا باز چین کے شینژو-24 مشن میں شامل ہو گا
بیجنگ، یورپ ٹوڈے اردو: پاک چین دوستی کی ایک اور تاریخی مثال قائم ہو گئی ہے، جس کے تحت پہلا پاکستانی خلا باز چین کے خلائی اسٹیشن کے شینژو-24 مشن کا حصہ بنے گا۔ چینی سرکاری میڈیا کے مطابق چین کے تعاون سے پاکستان سائنس، ٹیکنالوجی اور خلائی تحقیق کے ایک نئے دور میں داخل ہو گا، اور پہلا پاکستانی خلا باز رواں سال شینژو-24 مشن کے تحت چینی اسپیس اسٹیشن کا حصہ بنے گا۔
چینی اور پاکستانی خلا بازوں کی پہلی مشترکہ پرواز
چائنا مینڈ اسپیس ایجنسی کا کہنا ہے کہ چین کے خلائی پروگرام کی تاریخ میں یہ چینی اور پاکستانی خلا بازوں کی پہلی مشترکہ پرواز ہو گی۔ یہ پیش رفت بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو کے تحت پاکستان اور چین کے درمیان دو طرفہ تعاون کا حصہ ہے۔
چینی سرکاری نشریاتی ادارے کے مطابق چینی خلائی اسٹیشن کا دورہ کرنے والا یہ پہلا غیر ملکی خلا باز مشن میں پے لوڈ اسپیشلسٹ کی حیثیت سے خدمات انجام دے گا، جو خلائی تجربات اور آلات کی نگرانی کا ذمہ دار ہوتا ہے۔
دو پاکستانی خلا باز بیجنگ میں زیرِ تربیت
چین نے تاحال مشن میں شامل ہونے والے پاکستانی خلا باز کے نام کا اعلان نہیں کیا۔ واضح رہے کہ فروری 2025 میں چین اور پاکستان نے چینی خلائی اسٹیشن کے مشن میں پاکستان کی شرکت کے معاہدے پر دستخط کیے تھے۔
سخت اسکریننگ اور جائزے کے متعدد مراحل کے بعد دو پاکستانی خلا بازوں، ذیشان علی اور خرم داؤد، کا انتخاب کیا گیا تھا، جو بیجنگ میں قائم چائنا آسٹروناٹ ریسرچ اینڈ ٹریننگ سینٹر میں کئی ماہ سے اس مشن کے لیے تربیت حاصل کر رہے ہیں۔ تربیت مکمل کرنے اور تمام ٹیسٹ پاس کرنے کے بعد ان میں سے ایک پاکستانی خلا باز یہ مشن انجام دے گا۔ چین نے ابھی تک مشن کی تاریخ کا اعلان بھی نہیں کیا۔
شینژو-23 کے ذریعے زمین پر واپسی
چینی میڈیا کے مطابق مدار میں مختصر مدت کی خلائی پرواز مکمل کرنے کے بعد پاکستانی خلا باز شینژو-23 خلائی جہاز کے ذریعے زمین پر واپس آئے گا۔ اس پیش رفت کو بیجنگ کی خلائی سفارت کاری کے سلسلے میں بھی ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے۔