
منیٰ اور عرفات میں پاکستانی عازمینِ حج کے لیے جدید سہولیات پر وفاقی وزیر مذہبی امور کا اظہار اطمینان
مکہ مکرمہ، یورپ ٹوڈے: وفاقی وزیر مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی سردار محمد یوسف نے بدھ کے روز منیٰ اور عرفات کے کیمپس میں پاکستانی عازمینِ حج کے لیے فراہم کی جانے والی جدید اور اعلیٰ معیار کی سہولیات پر مکمل اطمینان کا اظہار کیا ہے، اور کہا ہے کہ اس سال کا حج آپریشن مثالی اور گزشتہ برسوں کی نسبت نمایاں طور پر بہتر ہوگا۔
وفاقی وزیر نے منیٰ میں قائم عارضی خیمہ بستی کے ان مخصوص علاقوں کا دورہ کیا جہاں پاکستانی عازمین قیام کریں گے۔ اس موقع پر انہیں اسمارٹ مینجمنٹ نظام کے حوالے سے تفصیلی بریفنگ دی گئی، جس میں سوفہ کم بیڈز کی تنصیب، نُسک کارڈ اسکیننگ کے ذریعے ڈیجیٹل انٹری سسٹم، خیموں کے اندر بیگ ہینگرز اور داخلی دروازوں پر عازمین کی تفصیلات ظاہر کرنے والے معلوماتی بورڈز شامل تھے۔
انہوں نے سہولیات پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ خیمے جدید ائیر کنڈیشننگ سسٹم، تکیوں، کمبلوں اور مرد و خواتین کے لیے علیحدہ اور بہتر حالت میں واش رومز سے مکمل طور پر آراستہ ہیں۔
عرفات کے میدانوں میں لاجسٹک نظام کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ عازمین کے لیے پیدل چلنے کی مشقت کو ختم کر دیا گیا ہے، اور وہ عرفات ریلوے اسٹیشن کے ‘S3’ بلاک پر اترنے کے بعد براہِ راست اپنے متعلقہ کیمپس میں داخل ہو سکیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ان کیمپس میں چوبیس گھنٹے کھانے کی فراہمی کا انتظام میگا کچنز کے ذریعے کیا گیا ہے، جہاں تازہ کھانے، ٹھنڈے پانی کے ڈسپنسرز، کولڈ ڈرنکس فریزرز اور آئس کریم کی سہولت بھی دستیاب ہوگی۔
عازمین کی طبی اور روحانی ضروریات کے حوالے سے وفاقی وزیر نے کہا کہ ہر کیمپ میں 24 گھنٹے فعال طبی کلینکس قائم کیے گئے ہیں، جہاں پاکستانی ڈاکٹرز اور پیرا میڈیکل عملہ خدمات انجام دے رہا ہے۔ اس کے علاوہ خیموں میں بڑے ڈیجیٹل اسکرینز نصب کیے گئے ہیں جن پر خطبہ حج اور نمازوں کی براہِ راست نشریات دکھائی جائیں گی، جبکہ خطبے کا اردو ترجمہ بھی ساتھ ساتھ نشر کیا جائے گا۔
سردار محمد یوسف نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستانی خدام الحجاج اور مکتب سپروائزرز منیٰ، عرفات، مزدلفہ اور جمرات میں چوبیس گھنٹے موجود رہیں گے تاکہ عازمین کی رہنمائی اور ان کی محفوظ واپسی کو یقینی بنایا جا سکے۔