انڈونیشیا

انڈونیشیا اور بیلاروس کے درمیان تعاون کے فروغ پر اتفاق، اعلیٰ سطحی دوروں سے قبل روڈ میپ طے

Read Time:2 Minute, 22 Second

جکارتہ، یورپ ٹوڈے: انڈونیشیا کے رابطہ کار وزیر برائے اقتصادی امور ایرلنگا ہارتارتو نے 15 مئی کو منسک میں بیلاروس کے وزیر خارجہ میکسم ریزینکوف سے ملاقات کی، جس میں جولائی 2026 میں متوقع صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کے دورۂ انڈونیشیا سے قبل دوطرفہ تعاون کو مضبوط بنانے پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

اتوار کے روز جاری بیان کے مطابق ایرلانگا ہارتارتو نے کہا کہ منسک میں ہونے والے فورم کے دوران مختلف شعبوں میں تعاون کے لیے ایک قابلِ عمل اور قابلِ پیمائش روڈ میپ کو حتمی شکل دی گئی ہے۔

انہوں نے بتایا کہ تعاون کے ان شعبوں میں تجارت، سرمایہ کاری، انسانی ہمدردی کے مشنز، سماجی امور اور ثقافتی روابط شامل ہیں۔

ایرلنگا ہارتارتو نے اس پیشگی ملاقات کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس کا مقصد یہ یقینی بنانا ہے کہ صدر الیگزینڈر لوکاشینکو کا آئندہ دورہ دونوں ممالک کے درمیان عملی نوعیت کے معاہدوں پر منتج ہو۔

منسک میں ہونے والی ملاقات کے دوران دونوں وزراء نے انڈونیشیا اور بیلاروس کے درمیان براہِ راست فضائی پروازوں کے آغاز کے منصوبوں پر بھی تبادلہ خیال کیا، جسے آئندہ اعلیٰ سطحی مذاکرات کا اہم حصہ قرار دیا جا رہا ہے۔

دونوں رہنماؤں نے ویزا پالیسیوں میں ہم آہنگی پیدا کرنے کے امکانات پر بھی غور کیا تاکہ سیاحوں اور کاروباری افراد کی آمد و رفت کو آسان بنایا جا سکے۔

انڈونیشیا نے منسک میں اپنا سفارت خانہ قائم کرنے کے عزم کا بھی اظہار کیا تاکہ دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات مزید مضبوط ہوں۔

صنعتی شعبے میں دونوں فریقین نے الیکٹرک گاڑیوں، سیمی کنڈکٹرز اور پوٹاشیم کھاد کے شعبوں میں تعاون کے نئے مواقع پر غور کیا۔ بیلاروس کو پوٹاشیم کے وافر ذخائر رکھنے والا ملک قرار دیا گیا۔

بیان کے مطابق کھاد کی مستحکم فراہمی انڈونیشیا کے اس بڑے ہدف کا حصہ ہے جس کے تحت قدرتی وسائل اور زرعی اجناس کی ویلیو ایڈیشن کے ذریعے غذائی تحفظ کو مضبوط بنایا جا رہا ہے۔

ملاقات میں تجارتی مواقع اور انڈونیشیا-یوریشین اکنامک یونین آزاد تجارتی معاہدہ کی توثیق کے عمل پر بھی بات چیت ہوئی۔ میکسم ریزینکوف نے بتایا کہ بیلاروس کی پارلیمان اس معاہدے کی منظوری دے چکی ہے اور یہ اب صدارتی توثیق کا منتظر ہے۔

انڈونیشیا نے اس معاہدے کی توثیق 2026 کے دوسرے نصف میں مکمل کرنے کا ہدف رکھا ہے۔

مزید برآں دونوں ممالک نے طلبہ اور پیشہ ور افراد کے تبادلے کے امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا، جن میں انڈونیشی ماہرین کے لیے بیلاروس کے اعلیٰ معیار کے طبی اداروں میں مواقع بھی شامل ہیں۔

ایرلنگا ہارتارتو نے ان پروگراموں کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقدامات قومی انسانی وسائل کی ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ یہ منصوبے صدر پربوو سوبیانتو کی جانب سے ترجیح دیے گئے سائنس، ٹیکنالوجی، انجینئرنگ اور ریاضی کے شعبوں سے مکمل طور پر ہم آہنگ ہیں۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
ترکمانستان Previous post ترکمانستان کے عازمینِ حج کی سعودی عرب روانگی، مقدس سفر کے لیے خصوصی انتظامات
ایئر انڈیا Next post ایئر انڈیا کو سالانہ 2 ارب ڈالر سے زائد خسارہ، مشرق وسطیٰ بحران اور پاکستان کی فضائی حدود کی بندش اثرانداز