زرداری

صدر زرداری نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو نشانِ امتیاز سے نواز دیا

Read Time:4 Minute, 12 Second

اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: صدر مملکت آصف علی زرداری نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس کو عالمی سطح پر ان کی نمایاں خدمات، اقوام متحدہ کی قیادت اور عالمی امن و ترقی کے لیے ان کی کاوشوں کے اعتراف میں پاکستان کے اعلیٰ ترین سول اعزاز ’’نشانِ امتیاز‘‘ سے نواز دیا۔

اعزاز عطا کرنے کی خصوصی تقریب ایوانِ صدر میں منعقد ہوئی، جس میں وزیراعظم محمد شہباز شریف، اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق، نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار، وفاقی کابینہ اور پارلیمنٹ کے ارکان سمیت سفارتی کور کے نمائندوں نے شرکت کی۔

یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان کی جانب سے اقوام متحدہ کے کسی سیکریٹری جنرل کو نشانِ امتیاز سے نوازا گیا ہے۔

اس سے قبل صدر آصف علی زرداری نے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس سے ملاقات کے دوران اقوام متحدہ میں ان کی قیادت اور عالمی امن، مذاکرات، سفارت کاری اور تنازعات کے پرامن حل کے فروغ کے لیے ان کی کوششوں کو سراہا۔ صدر نے پاکستان کے ساتھ گوتریس کے تعمیری روابط اور ترقی پذیر ممالک کو درپیش مسائل پر ان کی خصوصی توجہ کو بھی قابلِ تحسین قرار دیا۔

صدر مملکت نے فلسطینی عوام کی مسلسل حمایت اور ان کے حقِ خود ارادیت کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے فلسطینی ریاست کے قیام اور دو ریاستی حل کے لیے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی حمایت کو سراہا۔

جنوبی ایشیا میں امن و استحکام کے حوالے سے صدر زرداری نے پاکستان کے اس مؤقف کا اعادہ کیا کہ پائیدار امن کے لیے پاکستان اور بھارت کے درمیان مسلسل مذاکرات اور دیرینہ تنازعات، بالخصوص جموں و کشمیر کے تنازعے کا متعلقہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل ضروری ہے۔

انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ سندھ طاس معاہدہ ایک پابند بین الاقوامی معاہدہ ہے اور پانی کو ہتھیار یا سیاسی دباؤ کے آلے کے طور پر استعمال نہیں کیا جانا چاہیے۔

علاقائی امن اور سفارت کاری کے حوالے سے صدر زرداری نے کہا کہ اسلام آباد مذاکرات سمیت پاکستان کے سفارتی اقدامات کشیدگی میں کمی، مذاکرات اور انسانی جانوں کے تحفظ کے اصولوں پر مبنی رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان علاقائی تنازعات کے حل میں معاونت کے لیے جہاں بھی اپنا کردار مؤثر طور پر ادا کر سکتا ہے، وہاں سفارتی کوششوں میں سہولت فراہم کرنے کے لیے تیار ہے۔

دہشت گردی کے خلاف جنگ اور افغانستان کے معاملے پر صدر مملکت نے عالمی سطح پر دہشت گردی کے خلاف کوششوں کے لیے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ پاکستان نے اس سلسلے میں نمایاں قربانیاں دی ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ افغان سرزمین پاکستان یا کسی بھی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

صدر زرداری نے اقوام متحدہ کی امن مشن سرگرمیوں میں پاکستان کے دیرینہ کردار کو بھی اجاگر کیا۔ انہوں نے بتایا کہ 270,000 سے زائد پاکستانی امن دستوں کے اہلکار دنیا بھر میں اقوام متحدہ کے 48 مشنز میں خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے بین الاقوامی امن و سلامتی کے قیام کے لیے اقوام متحدہ کی امن کاری کو ایک اہم ذریعہ قرار دیتے ہوئے پاکستان کے عزم کا اعادہ کیا۔

صدر مملکت نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی قیادت میں ’’UN80 Initiative‘‘ کو بھی سراہا اور اقوام متحدہ کو زیادہ مؤثر، مربوط اور فعال بنانے کی کوششوں کی حمایت کی۔ انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ میں اصلاحات کے عمل میں ترقی پذیر ممالک کے مفادات کا تحفظ یقینی بنایا جانا چاہیے، جبکہ پائیدار ترقی، تنازعات کی روک تھام، امن کاری اور قیامِ امن کو مزید مضبوط کیا جائے۔

موسمیاتی تبدیلی کے حوالے سے صدر زرداری نے ماحولیاتی اثرات میں کمی، موسمیاتی تبدیلی سے مطابقت پیدا کرنے اور ماحولیاتی مالی معاونت کے لیے عالمی سطح پر مزید مؤثر اقدامات پر زور دیا، بالخصوص ان ترقی پذیر ممالک کے لیے جو موسمیاتی آفات سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں۔

صدر نے 2022ء کے تباہ کن سیلاب کے بعد پاکستان کے ساتھ اظہارِ یکجہتی پر بھی سیکریٹری جنرل گوتریس کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے متاثرہ علاقوں کے دورے، بین الاقوامی امداد متحرک کرنے اور جنیوا ڈونرز کانفرنس کے لیے تعاون کے سلسلے میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل کی کوششوں کو سراہا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے نشانِ امتیاز سے نوازے جانے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا اور پاکستانی عوام کی میزبانی، یکجہتی اور ثابت قدمی کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے خود دیکھا ہے کہ پاکستان نے لاکھوں افراد کو پناہ فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ دہشت گردی کے مقابلے میں بھی غیر معمولی استقامت کا مظاہرہ کیا ہے۔

اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس 6 سے 8 اکتوبر تک پاکستان کے دورے پر ہیں۔ یہ دورہ نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار کی دعوت پر ہو رہا ہے۔ دورے کے دوران وہ پاکستان کی دیگر اہم شخصیات سے بھی ملاقاتیں کریں گے جبکہ اقوام متحدہ کے ملٹری آبزرور گروپ برائے بھارت و پاکستان (UNMOGIP) کے ہیڈکوارٹرز اور نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (NDMA) کا دورہ بھی ان کے شیڈول میں شامل ہے۔

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
آذربائیجان Previous post آذربائیجان میں ڈیجیٹل تبدیلی قومی پالیسی کی اہم ترجیح ہے: علی اسدوف