
پاکستان میں امریکہ–ایران کے تاریخی براہِ راست مذاکرات، وزیرِاعظم شہباز شریف نے سفارتی سنگِ میل قرار دے دیا
اسلام آباد، یورپ ٹوڈے: وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ اعلیٰ سطحی رابطہ ایک تاریخی سفارتی پیش رفت ہے، کیونکہ تقریباً پانچ دہائیوں میں پہلی بار دونوں ممالک کے وفود نے براہِ راست اعلیٰ ترین سطح پر ملاقات کی۔ وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم نے کہا کہ گزشتہ 47 برسوں کے دوران دونوں ممالک کے درمیان روابط زیادہ تر بالواسطہ ذرائع سے ہوتے رہے ہیں۔
وزیرِاعظم نے اس امر پر اطمینان کا اظہار کیا کہ دونوں فریقین نے پاکستان کی دعوت قبول کرتے ہوئے اسلام آباد میں براہِ راست مذاکرات پر آمادگی ظاہر کی۔ انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا خصوصی شکریہ ادا کیا کہ انہوں نے مذاکرات میں شرکت کے لیے مثبت ردعمل دیا، جسے انہوں نے پاکستان کی سفارتی ساکھ پر اعتماد کا مظہر قرار دیا۔
وزیرِاعظم شہباز شریف نے کہا کہ پاکستان کو نہ صرف میزبانی بلکہ ثالثی کا بھی ایک نادر اور اہم موقع ملا ہے، جس کے ذریعے ملک امن کے قیام کی کوششوں میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔ انہوں نے اس لمحے کو قومی فخر کا باعث قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اعزاز 24 کروڑ عوام کی عزت اور وقار کی عکاسی کرتا ہے۔
انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان خطے میں امن، استحکام اور تعمیری مکالمے کے فروغ کے لیے اپنا کردار جاری رکھے گا اور سفارتکاری و باہمی افہام و تفہیم کے ذریعے مسائل کے حل کو ترجیح دے گا۔