
وزیراعظم فام منھ چِنہ کی کین تھو میں ووٹروں سے ملاقات، صحت و تعلیم میں پالیسی اصلاحات پر توجہ
کین تھو، یورپ ٹوڈے: ویتنام کے وزیراعظم فام منھ چِنہ نے اتوار کے روز میکونگ ڈیلٹا کے شہر کین تھو میں ووٹروں سے ملاقات کی، جہاں انہوں نے 15ویں قومی اسمبلی کے 10ویں اجلاس کے نتائج سے آگاہ کیا اور عوامی آراء سنیں۔ اجلاس میں گفتگو کا مرکز صحت اور تعلیم کے شعبوں میں بڑی پالیسی پیش رفت رہی۔
اس موقع پر قومی اسمبلی کے ارکان میں میونسپل پارٹی کمیٹی کے سیکریٹری لے کوانگ تُنگ، قومی اسمبلی کی کونسل برائے امورِ اقوام کے چیئرمین لام وان من، قومی اسمبلی کے جنرل سیکریٹری اور دفتر کے چیئرمین لے کوانگ مانھ، وزیر تعلیم و تربیت نگوین کِم سون، وزیر صحت ڈاؤ ہونگ لان سمیت شہر کے 300 سے زائد ووٹرز شریک تھے، جن میں سرکاری افسران، ملازمین، اساتذہ، لیکچررز اور طبی عملہ شامل تھا۔
اجلاس میں ووٹروں کی آراء کے لیے خاصا وقت مختص کیا گیا، بالخصوص پولیٹ بیورو کی قرارداد نمبر 71 (تعلیم و تربیت میں انقلابی ترقی) اور قرارداد نمبر 72 (عوامی صحت کے بہتر تحفظ اور فروغ کے اقدامات) پر عملدرآمد کے حوالے سے تبادلہ خیال ہوا۔
ووٹروں کے سوالات کے جواب میں وزیراعظم اور متعلقہ وزارتوں کے رہنماؤں نے بزرگوں کی نگہداشت میں نجی سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی، طبی عملے کے لیے مراعات، بنیادی صحت مراکز میں انسانی وسائل کی کشش، اور دو سطحی مقامی انتظامی ماڈل سے ہم آہنگ قانونی اصلاحات پر وضاحت فراہم کی۔ اس کے علاوہ نجی شعبے کے کردار کے فروغ، میکونگ ڈیلٹا کی جامعات کو علمی مراکز بنانے، اور اعلیٰ تعلیم و سائنسی تحقیق کے معیار کو بہتر بنانے کے لیے مالیاتی نظام مضبوط کرنے پر بھی روشنی ڈالی گئی۔
وزیراعظم فام منھ چِنہ نے اس بات پر زور دیا کہ صحت اور تعلیم دو بنیادی ستون ہیں جو ہر شہری کی فلاح و بہبود اور ملک کی خوشحالی، تہذیب اور پائیدار ترقی کے خواب سے براہِ راست جڑے ہیں۔ قرارداد نمبر 72 کو عملی جامہ پہنانے کے لیے حکومت نے قومی اسمبلی میں دو قوانین اور ایک قرارداد منظوری کے لیے پیش کی، جن میں آبادی سے متعلق قانون، بیماریوں کی روک تھام کا قانون، اور صحت کے شعبے میں انقلابی ترقی کے لیے خصوصی میکانزم شامل ہیں، تاکہ ایک مضبوط ویت نام تشکیل دیا جا سکے جہاں ہر شہری طویل، صحت مند اور بہتر زندگی گزار سکے۔
انہوں نے بتایا کہ 2026 تا 2035 صحت، آبادی اور ترقی کے لیے منظور شدہ قومی ہدفی پروگرام پر تیزی سے عملدرآمد کیا جائے گا، جس کے تحت تقریباً 90 کھرب ویت نامی ڈونگ (3.4 ارب امریکی ڈالر) کی لاگت سے پانچ منصوبے شامل ہیں۔ ان کا مقصد بنیادی صحت کے نیٹ ورک کو مضبوط بنانا، بیماریوں کی روک تھام کی صلاحیت بڑھانا، عوامی صحت، آبادی کی ترقی اور کمزور طبقات کی سماجی نگہداشت کو بہتر بنانا ہے۔
تعلیم کے حوالے سے وزیراعظم نے اعادہ کیا کہ اعلیٰ معیار کے انسانی وسائل قومی ترقی کے لیے فیصلہ کن حیثیت رکھتے ہیں۔ 10ویں اجلاس میں حکومت کی جانب سے پیش کی گئی تعلیم سے متعلق تین قوانین اور ایک قرارداد کی منظوری دی گئی، جن میں قانونِ تعلیم میں ترامیم، قانونِ اعلیٰ تعلیم، قانونِ فنی تعلیم، اور تعلیمی اصلاحات و ترقی کے لیے خصوصی اور انقلابی میکانزم شامل ہیں۔ مزید برآں، 580 کھرب ویت نامی ڈونگ سے زائد مالیت کا قومی تعلیمی پروگرام بھی قانون ساز ادارے کو پیش کیا گیا، جس کا مقصد تمام سطحوں پر تعلیم و تربیت کے معیار کو جدید بنانا ہے۔
کین تھو کی کامیابیوں کو سراہتے ہوئے وزیراعظم نے بعض خامیوں کی نشاندہی بھی کی، جن میں اسکولوں کے غیر یکساں معیارات، اساتذہ کی کمی—بالخصوص پری اسکول اور ابتدائی سطح پر—اور مالی خودمختاری کا نامکمل ہونا شامل ہے۔ انہوں نے شہر کو ہدایت کی کہ دو سطحی مقامی انتظامی ماڈل کے مطابق تعلیمی نیٹ ورک کی تنظیمِ نو کرے، علاقائی جامعات کو یکجا کرے اور انتظامی توسیع کے بجائے معیار پر توجہ دے۔
انہوں نے صحت اور تعلیم دونوں شعبوں میں انسانی وسائل، سہولیات اور انتظامی صلاحیت کو مزید بہتر بنانے اور ڈیجیٹل تبدیلی کو فروغ دینے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
بعد ازاں اسی روز وزیراعظم نے کین تھو میں چاؤ ڈوک–کین تھو–سوک ٹرانگ ایکسپریس وے منصوبے کے ایک حصے کا معائنہ کیا اور رفتار میں تیزی، سخت معیارِ تعمیر، اور فضول خرچی و بدعنوانی کی روک تھام کی ہدایت دی، ساتھ ہی متاثرہ افراد کی بازآبادکاری کے ذریعے ان کے معاشی تحفظ کو یقینی بنانے پر زور دیا۔ اس منصوبے کا پہلا مرحلہ 188.2 کلومیٹر طویل، چار لینز پر مشتمل ہے، جس کی مجموعی لاگت تقریباً 44.7 کھرب ویت نامی ڈونگ ہے۔ منصوبہ 2026 تک مکمل اور 2027 تک مکمل طور پر فعال کیا جانا ہے۔
یہ میکونگ ڈیلٹا کو جوڑنے والی ایک اہم افقی شاہراہ ہے جو آن جیانگ صوبے اور کین تھو شہر سے گزرتی ہے۔ وزیراعظم نے کین تھو–کا ماؤ ایکسپریس وے منصوبے کو بھی 31 جنوری 2026 تک مکمل کرنے کی ہدایت کی، تاکہ کاو بانگ سے کا ماؤ تک شمال–جنوب ایکسپریس وے کی مکمل رابطہ کاری یقینی بنائی جا سکے۔