ناصر علی ناصر

عشق تیرا جو میری ذات کا دھارا بنتا

Read Time:23 Second

عشق تیرا جو میری ذات کا دھارا بنتا
میں بھنور میں بھی اترتا تو کنارا بنتا

درد بچے کی سی حیرت سے کھڑا دیکھتا ہے
کاش سینے میں کسی آہ سے تارا بنتا

ایسا لگتا ہے میرے نقش ادھورے ہیں ابھی
تُو مجھے چھوڑ نا جاتا تو میں سارا بنتا

وہ جو تم سامنے بیٹھے تھے زمانے سے جدا
ایسا منظر میری آنکھوں میں دوبارا بنتا

نفرتیں ساری جلانے کی تمنا تھی مجھے
کوئی آنسو میری آنکھوں میں شرارا بنتا

Happy
Happy
0 %
Sad
Sad
0 %
Excited
Excited
0 %
Sleepy
Sleepy
0 %
Angry
Angry
0 %
Surprise
Surprise
0 %
افسانے کی ساخت، اسلوب، آہنگ اور تکنیک Previous post افسانے کی ساخت، اسلوب، آہنگ اور تکنیک
کریملن Next post کریملن: سی آئی اے سربراہ کا ماسکو دورہ سکیورٹی اداروں کے درمیان رابطوں کے لیے تھا